”نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا۔ جو دوسرے کا نقصان کرے گا،…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- Not named by the sourceOriginal wording: رواه الدارقطني
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4711(HadeethEnc 4711)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔
کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے، اور یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔
پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ جو شخص لوگوں کو نقصان پہنچائے گا، اسے خود نقصان کا شکار ہونا پڑے گا اور جو شخص لوگوں کو مشقت میں ڈالے گا، اسے خود مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حدیث کے فوائد
- جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائز نہيں ہے۔
- اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
- قول، فعل یا ترک کے ذریعے نہ کسی کو بلاوجہ ضرر پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے میں ضرر پہنچانا جائز ہے۔
- انسان کو جزا اسی جنس کی دی جاتی ہے، جس جنس کی اس کا عمل رہتا ہے۔ چنانچہ جو دوسرے کا نقصان کرے گا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جو دوسرے کو مشقت میں ڈالے گا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا۔
- شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that we should avert harm from ourselves and others in all its kinds and manifestations. It is equally impermissible for anyone to harm himself or harm others.
It is also not permissible to respond to harm with harm, for harm will not be removed with harm, except by way of legal retribution, without transgression.
Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warned that whoever harms people will be harmed, and whoever makes things hard for people will find hardship.