”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4717Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4717)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کسی شخص کو ایمان کامل کی دولت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی دین اور دنیا کی وہی چیزیں پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہو اور اس کے لیے انھیں چيزوں کو ناپسند نہ کرے، جنھیں اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ اگر اپنے بھائی کے اندر دین کی کوئی کمی دیکھے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اچھائی دیکھے تو اسے اور جلا دے اور اس میں مدد کرے۔ دین اور دنیا سے متعلق تمام امور میں اس کی خیرخواہی کرے۔
حدیث کے فوائد
- انسان پر یہ واجب ہے کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ کیوں کہ جو اپنے لیے پسند ہو اسے اپنے بھائی کے لیے پسند نہ کرنے والے کے ایمان کی نفی یہی بتاتی ہے۔
- دینی اخوت کا درجہ نسبی اخوت سے اوپر ہے۔ لہذا اس کا حق بھی زیادہ واجب ہے۔
- ایسے تمام اقوال و افعال حرام ہیں جو اس اخوت کے منافی ہوں جیسے دھوکہ، غیبت، حسد اور مسلمان کی جان، مال یا عزت و آبرو پر حملہ وغیرہ۔
- مہمیز کا کام کرنے والے الفاظ کا استعمال۔ کیوں کہ آپ نے "اپنے بھائی" کا لفظ استعمال کیا ہے۔
- کرمانی رحمہ اللہ کہتے ہيں: ایمان کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہ ناپسند کرے، جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ لیکن اس کا ذکر آپ نے نہیں کیا۔ کیوں کہ کسی چيز سے محبت سے اس کی ضد سے نفرت لازم آتی ہے۔ لہذا اسے الگ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that no Muslim attains complete Imān until he loves for his brother what he loves for himself, among the acts of worship and types of goodness in terms of the religion and the life of this world, and hates for his brother what he hates for himself. If he sees a deficiency in the religious commitment of his brother, he strives to reform it, and if he finds goodness in him, he guides and helps him and renders sincere advice to him as regards his religious and worldly matters.