Sahih al-Bukhari صحیح بخاری

اے یزید! تجھے وہ (اجر و ثواب) ملے گا جس کی تو نے نیت کی اور اے معن! وہ تیرا ہے جو تو نے لے لیا۔

عن معن بن يزيد بن الأخنس رضي الله عنهم قال: كان أبي يزيدُ أَخْرجَ دَنَانِيرَ يتصدقُ بها، فوضعها عند رجلٍ في المسجدِ، فجِئْتُ فأخذتُها فأَتَيْتُهُ بها، فقال: واللهِ، ما إيَّاكَ أردتُ، فخَاصَمْتُهُ إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فقال: «لكَ ما نويتَ يا يزيدُ، ولك ما أخذتَ يا معنُ».
معن بن یزید بن اخنس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ میرے والد یزید نے چند دینار صدقہ کے لیے نکالے اور انہیں مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیا۔ میں آیا تو میں نے ان کو لے لیا اور انہیں لے کر اپنے والد کے پاس آیا۔ میرے والد نے کہا کہ اللہ کی قسم! میرا تجھ کو دینے کا ارادہ نہ تھا۔ چنانچہ میں یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یزید! تجھے وہ (اجر و ثواب) ملے گا جس کی تو نے نیت کی اور اے معن! وہ تیرا ہے جو تو نے لے لیا“۔
Ma‘in ibn Yazīd ibn al-Akhnas (may Allah be pleased with him) reported: My father, Yazīd, took out some dinars for charity and kept them with a man in the mosque. I went and took them and brought them to him, and he said: "By Allah! It was not you whom I intended (to give these dinars to)." So I took the case to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) who said: "For you, Yazīd, is (the reward for) what you intended, and for you, Ma‘in, is what you took."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #4719

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کچھ درہم نکال کر مسجد میں موجود ایک شخص کے پاس رکھ دیے تاکہ وہ اسے فقرا کو بطور صدقہ دے دے۔ اتنے میں ان کا بیٹا آیا اور اس نے وہ درہم لے لیے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ یہ درہم بطور صدقہ تجھے دوں۔ اس پر وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:’’اے یزید! تجھے وہ مل جائے گا جس کی تو نے نیت کی کیونکہ تو نے صدقہ مسلمانوں کے فقرا میں سے ایک فقیر شخص تک پہنچا دیا ہے چنانچہ تمہاری نیت کے مطابق تمہارے لیے اجر واجب ہو چکا ہے اور اے معن! تو نے جو کچھ لیا ہے وہ تیرا ہے۔ کیونکہ تو نے صحیح طریقے سے اسے حاصل کیا ہے۔ یزید بن اخنس کے بیٹے اس صدقے کے مستحقین میں سے تھے۔

Explanation

Yazīd ibn al-Akhnas left some dirhams with a man in the mosque to give them in charity to the poor. His son Ma‘in came and took them, so Yazīd said to him: "I did not intend to spend these dirhams in charity on you." So they went to seek judgment from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) who said to them: "For you, Yazīd, is the reward of what you intended, because your charity reached a poor Muslim. So the reward is due to you for your intention. And for you, Ma‘in, is what you took, because you took it rightfully." His son was, indeed, from among those who deserved charity.

Topics موضوعات