”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4723Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 4723)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی ﷺ ہمیں یہاں طب کا ایک اصول بتا رہے ہیں، جس سے انسان اپنی صحت کی حفاظت کر سکتا ہے۔ یہ اصول ہے کم کھانا کھانا۔ کھانا بس اتنا کھایا جائے کہ انسان زندہ رہے اور ضروری کاموں کے لیے توانائی مل جائے۔ بھرا جانے والا سب سے بدترین برتن دراصل پیٹ ہے کہ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے نتیجے میں بے شمار ظاہر و باطنی بیماریاں جلد یا بدیر سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر انسان کو پیٹ بھر کر کھانا کھانا ہی ہو، تو ایک تہائی حصے کے بہ قدر کھانا کھائے، ایک تہائی حصے کے بہ قدر پانی پیے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لیے رکھے، تاکہ پریشانی، نقصان اور دینی و دنیوی فرائض کی ادائیگی میں سستی نہ ہو۔
حدیث کے فوائد
- انسان کو زیادہ کھانے پینے سے بچنا چاہیے۔ یہ طب کا بھی ایک اہم ترین اصول ہے۔ کیوں کہ زیادہ کھانے پینے کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
- کھانے کا مقصد صحت اور طاقت کو برقرار رکھنا ہے جو زندگی کی بنیاد ہیں۔
- پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بہت سے جسمانی اور دینی نقصانات ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تم پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے بچو۔ کیوں کہ یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہے اور نماز میں سستی پیدا کرتا ہے۔"
- حکم کے اعتبار سے کھانے کی کئی قسمیں ہوا کرتی ہیں۔ اتنا کھانا واجب ہے، جس سے جان بچی رہے اور جسے ترک کرنا نقصان کا باعث ہو۔ قدر واجب سے زیادہ اور اتنا کھانا جائز ہے، جس سے نقصان ہونے کا ڈر نہ ہو۔ اتنا کھانا مکروہ ہے کہ جس سے نقصان ہونے کا ڈر ہو۔ اتنا کھانا حرام ہے کہ جس سے نقصان ہونے کا یقین ہو۔ اتنا کھانا مستحب ہے کہ جس سے اللہ کی عبادت اور نیکی کے کاموں میں تعاون ملے۔ زیر بحث حدیث میں ان تمام باتوں کو مختصر انداز میں درج ذیل تین مراتب میں بیان کر دیا گیا ہے: 1- پیٹ بھر کر کھانا کھانا۔ 2- اتنا کھانا کھانا کہ پیٹھ کھڑی رہ سکے۔ 3۔ جب کہ تیسرے مرتبے کو درج ذیل الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے: "پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔" لیکن یہ ساری باتیں اس وقت ہیں، جب کھائی جانے والی چیز حلال ہو۔
- یہ حدیث طب کے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ علم طب کے بنیادی اصول تین ہیں: صحت کی حفاظت کرنا، احتیاط برتنا اور علاج کرنا۔ جب کہ اس حدیث میں پہلے دونوں اصول موجود ہیں۔ ارشاد باری تعالی بھی ہے: (اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے آگے مت نکلو۔ بے شک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔)
- اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے، جس میں انسان کے دینی ودنیوی دونوں طرح کے مصالح کا خیال رکھا گیا ہے۔
- شرعی علوم ہی کا ایک حصہ علم طب کی بنیادی باتیں اور اس کے مختلف حصے ہيں۔ جیسا کہ شہد اور کلونجی کے بارے میں آیا ہے۔
- شرعی احکام کے اندر بڑی حکمتیں پائی جاتی ہيں۔ تمام شرعی احکام نقصانات کو روکنے اور منافع کو حاصل کرنے پر مبنی ہیں۔
Explanation
The noble Prophet (ﷺ) directs us to one of the principles of medicine, namely, to protect our health by eating little. Rather, a person should only eat the amount that maintains his survival and enables him to do the necessary activities. The worst vessel to be filled is the stomach, given the numberless ruinous diseases that result from fullness, sooner or later, and outwardly or inwardly. Then, the Messenger (ﷺ) said: If a person must fill his stomach, let him eat as much as one-third, another one-third for drinking, and another one-third for breathing, so that he does not suffer difficulty and harm and laziness in performing the duties Allah has imposed on him concerning his religion and worldly life.