میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4725Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4725)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
رسول اللہ ﷺ نے ہماری رہنمائی کی اور فرمایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثناء اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی شے کے کرنے کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہیں کہ ہم مقدور بھر اسے سر انجام دیں۔
پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے ڈرایا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہوں نے اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوالات کیے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی مخالفت بھی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاکت و بربادی کے مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ ہم ان کی طرح نہ ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی ویسے ہی ہلاک ہو جائیں جیسے وہ ہوئے۔
حدیث کے فوائد
- اوامر کی بجا آوری اورنواہی سے بچنے کا حکم۔
- نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے، جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
- زیادہ سوال کرنے کی ممانعت۔ علما نے سوال کی دوقسمیں کی ہیں: ایک، جو دین کی ضروری بات سیکھنے کےلیے ہو۔ یہ ماموربہ ہے۔ صحابۂ کرام کے سوالات اسی نوع کے ہوتے تھے۔ دوسری جو بہ طور تکلّف اور پریشان کرنے کے لیے ہو۔ اسی سے روکا گیا ہے۔
- اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
- کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتاہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچاجائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
- حرام تک پہنچانے والے اسباب کو چھوڑدینا چاہیے، اس لیے کہ یہ اجتناب کے معنیٰ میں داخل ہے۔
- انسان صاحب استطاعت اور قدرت والا ہے، کیوں کہ آپ کا فرمان ہے: "مَا استَطَعْتُمْ" جتنی تمہیں طاقت ہو۔ چناںچہ اس میں جبریہ کی تردید ہے، جو کہتے ہیں کہ انسان کے پاس کوئی استطاعت نہیں ہے اور وہ عمل پر مجبور ہے، یہاں تک کہ انسان گفتگو کے وقت اپنے ہاتھ سے جو حرکت کرتا ہے، ان کے قول کے مطابق ہاتھ کی وہ حرکت بھی اس کی استطاعت میں نہیں ہے۔ وہ بالکل مجبور ہے۔ بلاشبہ یہ باطل قول ہے، جس پر بڑے مفاسد مرتب ہوتے ہیں۔
- کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے توکہےکہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ کیوں کہ آپ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی تم اس میں سے اپنے مقدور بھر سر انجام دو۔
- نبیﷺ جس بات کا حکم دیں یا جس سے منع فرمائیں، وہ شریعت ہے، خواہ وہ قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ لہذا سنت سے ثابت ان اوامر اور نواہی پر بھی عمل کیا جائے گا، جو قرآن میں نہیں ہیں۔
- زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کا جان پانا ممکن نہ ہو، جیسے اللہ کے اسما و صفات اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں ہوگا۔
- گزشتہ امتیں کثرت سوال اور اپنے انبیا کے بارے میں زیادہ اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوگئیں۔
Explanation
The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) informed us that if he forbade us from something, we must avoid it without exception, and if he ordered us to do something, we have to do it as much as we can. He then warned us against being like some of the previous nations, who asked their prophets excessive questions and disagreed with them, so Allah punished them with different types of destruction and ruin. We should therefore avoid being like them, so we will not be destroyed in the ways that they were.