”بنی اسرائیل کی رہ نمائی انبیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا نبی بن جاتا۔ مگر میرے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4936Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4936)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت انبیا کرتے تھے۔ انبیا ان کے سارے کام اسی طرح کرتے تھے، جس طرح حکمراں وسلاطین اپنی رعایا کے کام کرتے ہيں۔ جب بھی بنی اسرائیل کے اندر کوئی بگاڑ پیدا ہوتا، اللہ ایک نبی بھیج دیتا، جو اس بگاڑ کو درست کر دیتا۔ لیکن میری امت میں یہ کام کرنے کے لیے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ میرے بعد خلیفے ہوں، جو بڑی تعداد میں ہوں گے اور ان کے درمیان اختلافات اور جھگڑے بھی رونما ہوں گے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ایسے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ آپ نے جواب دیا: جب ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ سے بیعت کر لی جائے، تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اسے نبھانا پڑے گا، جب کہ دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے۔ اس طرح کی بیعت کروانا حرام ہے۔ دیکھو، خلفا کو ان کا حق دو، ان کی اطاعت کرو اور ان کی جو بات قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو، اسے مانو۔ کیوں کہ وہ جو کچھ تمھارے ساتھ کر رہے ہیں، اس کے بارے میں اللہ ان سے پوچھے گا اور ان سے حساب لے گا۔
حدیث کے فوائد
- عوام کے لیے ایک نبی یا خلیفہ کا ہونا ضروری ہے، جو ان کے معاملات کو سنبھالے اور انہیں صراط مستقیم دکھائے۔
- ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا۔
- اس حدیث میں کسی ایسے شخص کے خلاف بغاوت کرنے سے خبردار کیا گیا ہے، جس کی حکمرانی شرعی طریقے سے ثابت ہو گئی ہو۔
- ایک ہی وقت میں دو خلیفوں سے بیعت جائز نہیں ہے۔
- امام کے اوپر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیوں کہ اللہ تعالی اس سے اس کے رعایا کے بارے میں باز پرس کرے گا۔
- ابن حجر کہتے ہيں: دینی معاملات کو دنیوی معاملات پر مقدم رکھا جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکمراں کا حق ادا کرنے کا حکم اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیا کہ اس سے دین کی سربلندی اور فتنہ و فساد کی سرکوبی ہوتی ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ حق کے مطالبے کے حکم کو موخر کر دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حق ساقط ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ خود اللہ نے اسے اس کا پورا حق دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اخروی زندگی ہی میں سہی۔
- یہ حدیث محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے نبی ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے۔ کیوں کہ آپ کے بعد بہت سے خلفا ہوئے۔ ان میں کچھ اچھے بھی اور کچھ برے بھی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that the Children of Israel were led by the prophets, who managed their affairs as rulers and leaders do with their subjects. Whenever corruption appeared among them, Allah would send them a prophet to set their matters right and remove the alterations they had made to the rulings. He added that there would be no prophet after him to do what they used to do. After me, there will be caliphs, and they will increase in number, and disputes and disagreements will arise among them. Thereupon, the Companions (may Allah be pleased with them) asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him): What do you command us to do? He said: If a caliph is given the pledge of allegiance after another caliph, the pledge to the first one is valid and must be honored, while the pledge to the second is invalid, and it is forbidden for him to seek it. Give them their due rights, obey them, and live with them in obedience, except in matters that involve disobedience to Allah, for Allah will question them and hold them accountable for what they do to you.