میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے جسم پر ایک موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #4940Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 4940)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی یعنی ایسا کپڑا جس کے کنارے دھاری دار ہوں۔ نجرانی یعنی نجران کی طرف منسوب جو یمن کا ایک شہر ہے۔ موٹے کنارے والیظ، جسے ایک اعرابی نے پیچھے سے آ کر اسے کھینچا۔ یعنی اعرابی نے آپ ﷺ کی چادر سے پکڑ کر آپ ﷺ کو زور سے کھینچا۔ ”صفحة عاتق“ اس سے مراد شانے کی جگہ ہے۔ آپ ﷺ کے شانے پر (زور سے کھینچے کی وجہ سے ) چادر کے کنارے سے نشان پڑ گیا۔ پھر اس اعرابی نے کہا ”اے محمد!“ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مؤلفۃ القلوب میں سے تھا اسی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ پھر اس نے شفقت و مہربانی کے پیکر کے مقابلے میں درشتگی کے ساتھ آپ ﷺ کو آپ کے نام کے ساتھ پکارتے ہوئے کہا: ”مُرْ لِي“ یعنی اپنے کارندوں کو کہو کہ وہ مجھے مال دیں یا مجھے دینے کا حکم دو۔ ”اللہ کے اس مال سے جو تیرے پاس ہے“ یعنی جسے دینے میں تیرا کوئی ہاتھ نہیں۔ جیسا کہ ایک اور روایت میں اس کی صراحت ہے کہ اس نے کہا: ”نہ اپنے مال سے اور نہ اپنے باپ کے مال سے“۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ کا مال تھا جس کا کچھ حصہ آپ ﷺ ان لوگوں پر خرچ کرتے جن کی تالیف قلبی مقصود ہوتی۔ آپ ﷺ نے تعجب کے ساتھ اسے دیکھا۔ اور پھر آپ ﷺ اظہار شفقت کے طور پر مسکرا دیے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔
Explanation
In this Hadīth, Anas (may Allah be pleased with him) reports: I was walking with the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and he was wearing a Najrāni cloak – from Najrān, Yemen – with a thick hem. A Bedouin approached him and pulled him violently by his cloak. I looked at the neck of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon) [and saw that] it was chaffed by his hard tug. The Bedouin then said: "O Muhammad, give me some of Allah's wealth that you have with you." In other words, it is not a favor from you to give from it, as it does not belong to you. The Prophet turned to him, laughed, and ordered that he be given something.