صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

رسول اللہ ﷺ نے دس جاسوسوں کی ایک جماعت بھیجی اور عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5001Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بَعَث رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة رهْط عيْنا سرية، وأمّر عليها عاصم بن ثابت الأنصاري رضي الله عنه فانطلقوا حتى إذا كانوا بالهَدْأة؛ بين عُسْفان ومكة؛ ذكروا لِحَيٍ من هُذَيْل يقال لهم: بنو لحيَان، فنَفَروا لهم بقريب من مائة رجل رام، فاقتصُّوا آثارهم، فلما أحسَّ بهم عاصم وأصحابه، لَجَأوا إلى موضع، فأحاط بهم القوم، فقالوا: انزلوا فأَعْطُوا بأيديكم ولكم العهد والميثاق أن لا نقتل منكم أحدا. فقال عاصم بن ثابت: أيها القوم، أما أنا، فلا أَنْزل على ذِمَّة كافر: اللهم أخبِرْ عَنَّا نبيك صلى الله عليه وسلم فرموهم بالنّبْل فقتلوا عاصما، ونزل إليهم ثلاثة نفر على العهد والميثاق، منهم خُبَيب، وزيد بن الدِّثِنَة ورجل آخر. فلما اسْتَمْكَنوا منهم أطلقوا أوتار قِسِيِّهم، فربطوهم بها. قال الرجل الثالث: هذا أول الغَدْر والله لا أصحبكم إن لي بهؤلاء أُسْوة، يريد القتلى، فجرُّوه وعالَجوه، فأبى أن يصحبهم، فقتلوه، وانطلقوا بخُبيب، وزيد بن الدِّثِنِة، حتى باعوهما بمكة بعد وقعة بدر؛ فابتاع بنو الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مُناف خُبيبا، وكان خُبيب هو قَتَل الحارث يوم بدر. فلبث خُبيب عندهم أسيرا حتى أجْمعوا على قتله، فاستعار من بعض بنات الحارث موسى يستَحِدُّ بها فأعارته، فدَرَج بُنَيٌّ لها وهي غافلة حتى أتاه، فوجدَتْه مُجْلِسه على فخذه والمُوسى بيده، ففزعت فزعة عرفها خُبيب. فقال: أتخشين أن أقتله ما كنت لأفعل ذلك! قالت: والله ما رأيت أسيرا خيرا من خُبيب، فوالله لقد وجدته يوما يأكل قِطْفا من عنب في يده وإنه لموثَق بالحديد وما بمكة من ثمرة، وكانت تقول: إنه لَرِزْق رَزَقه الله خبيبا. فلما خرجوا به من الحرم ليقتلوه في الحِلِّ، قال لهم خُبيب: دعوني أصلِّي ركعتين، فتركوه، فركع ركعتين فقال: والله لولا أن تحسبوا أن ما بي جَزَع لزدتُ: اللهم أحْصِهم عددا، واقتلهم بِدَدَا، ولا تُبْقِ منهم أحدا. وقال:
فلسْتُ أُبالي حين أُقتَل مسلما... على أي جنْب كان لله مصرعي
وذلك في ذات الإله وإن يشأْ... يباركْ على أوصال شِلْوٍ مُمَزَّع.
وكان خُبيب هو سَنَّ لكل مسلم قُتِل صْبرا الصلاة. وأخبر - يعني: النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه يوم أصيبوا خبرهم، وبعث ناس من قُريش إلى عاصم بن ثابت حين حُدِّثُوا أنه قُتل أن يُؤتوا بشيء منه يُعرف، وكان قتل رجلا من عظمائهم، فبعث الله لعاصم مثل الظُلَّة من الدَّبْرِ فحَمَتْه من رُسُلهم، فلم يقدروا أن يقطعوا منه شيئا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دس جاسوسوں کی ایک جماعت بھیجی اور ان کا امیر عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ جب یہ لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان واقع مقام 'ھدأہ' پر پہنچے، تو قبیلۂ ہذیل کی ایک شاخ، جسے بنی لحیان کہا جاتا تھا، اسے کسی نے ان کے آنے کی خبر کردی۔ چنانچہ انھوں نے سو تیر اندازوں کو ان کے تعاقب میں روانہ کر دیا۔ وہ ان کے نشانات قدم دیکھتے ہوۓ چل پڑے۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان کی آمدکا پتہ چلا، تو انھوں نے ایک (محفوظ)جگہ پناہ لے لی۔ قبیلے والوں نے انھیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور کہا کہ نیچے اتر آؤ۔ ہماری پناہ قبول کر لو۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمھارے کسی آدمی کو قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: مسلمانو! میں کسی کافر کے امان میں نہیں اتر سکتا۔ پھر انھوں نے دعا کی، اے اللہ! ہمارے حالات کی خبر اپنے نبی کو کر دے ۔آخر قبیلے والوں نے مسلمانوں پر تیر برساۓ اور عاصم رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد ازاں، ان کے وعدے پر تین صحابہ اتر آئے۔ جن میں خبیب، زید بن دثنہ اور ایک تیسرے صحابی تھے۔ قبیلے والوں نے جب ان تینوں صحابہ پر قابو پا لیا تو اپنے تیر کی کمان سے تانت نکال کر انھیں باندھ دیا۔ تیسرے صحابی نے کہا: یہ تمھاری پہلی عہد شکنی ہے۔ میں تمھارے ساتھ کبھی نہیں جا سکتا۔ میرے لیے تو وہی نمونہ ہیں۔ ان کا اشارہ مقتول صحابہ کی طرف تھا۔ کفار نے انھیں گھسیٹنا شروع کیا اور زبردستی کی، لیکن وہ کسی طرح ان کے ساتھ جانے پر تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے ان کو بھی شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے گئے اور مکہ میں لے جا کرانھیں بیچ دیا۔ یہ بدر کی لڑائی کے بعد کا واقعہ ہے۔ حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے لڑکوں نے خبیب رضی اللہ کو خرید لیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ ہی نے بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ کچھ دنوں تک تو وہ ان کے یہاں قید رہے۔ بالآخر انھوں نے ان کے قتل کا فیصلہ کرلیا۔ (انھیں دنوں) حارث کی کسی لڑکی سے انھوں نے زیر ناف بال صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا۔ اس نے دے دیا۔ اس وقت اس کا ایک چھوٹا سا بچہ ان کے پاس اس عورت کی بےخبری میں چلا گیا۔ وہ دیکھتی کیا ہے کہ اس کا بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ یہ دیکھتے ہی وہ حد درجہ گھبرا گئی۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے اس کی گھبراہٹ کو بھانپ لیا اور بولے: کیا تمھیں اس کا خوف ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ یقین رکھو کہ میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی قیدی خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن ان کے ہاتھ میں موجود انگور کے ایک خوشہ سے انھیں کھاتے دیکھا، حالاں کہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں اس وقت کوئی پھل بھی نہیں تھا۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ در اصل خبیب رضی اللہ عنہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجی ہوئی روزی تھی۔ پھر بنو حارثہ انھیں قتل کرنے کے لیے حدودِ حرم سے باہر ”حِل“ لے جانے لگے۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دے دو۔ انھوں نے اس کی اجازت دی، تو انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں قتل سے گھبرا رہا ہوں تو میں مزید پڑھتا۔ پھر انھوں نے دعا کی کہ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو گن لے، ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ ہلاک کر اور ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ۔ اور یہ اشعار پڑھے:
جب میں اسلام کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر پچھاڑا جائے گا۔
اور یہ سب تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے، تو میرےپھٹے ہوۓ جسم کے ایک ایک جوڑ پر ثواب عطا فرمائے۔
خبیب رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے ہر اس مسلمان کے لیے (قتل سے پہلے دو رکعت) نماز پڑھنے کی سنت قائم کردی، جسے قید کر کے قتل کیاجائے۔ ادھر نبی کریم ﷺ نے اسی دن اپنے صحابہ کو ان دس صحابہ کی خبر دے دی، جس دن ان پر یہ مصیبت آن پڑی۔ قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے ہیں، تو ان (کی نعش) کے پاس اپنے آدمی بھیجے؛ تاکہ ان کے جسم کا کوئی ایسا حصہ لائیں، جس سے ان کی شناخت ہوجائے؛ کیوں کہ انھوں نے بھی (بدر میں) ان کے ایک سردار کو قتل کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش پر بادل کی طرح بھڑوں کی ایک فوج بھیج دی اور ان بھڑوں نے آپ کی نعش کو کفار قریش کے ان قاصدین سے بچا لیا اور وہ ان کے جسم کا کوئی حصہ بھی نہ کاٹ سکے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) dispatched a secret troop of ten men under the leadership of ‘Āsim ibn Thābit al-Ansāri (may Allah be pleased with him). They proceeded until they reached Al-Had'ah, a place between ‘Usfān and Makkah, when the news reached a branch of the tribe of Hudhayl called Banu Lihyān. About one hundred of their archers hurried to track them. When ‘Āsim and his companions sensed them, they took refuge in a safe place. Their trackers circled them and said: "Come down and surrender. We give you our pledge and covenant that we will not kill any of you." ‘Āsim ibn Thābit (may Allah be pleased with him) said: "O people, as for me, I will not go down to be under the protection of disbelievers. O Allah, let your Prophet know what has happened to us." The disbelievers then shot arrows at them until they killed ‘Āsim. Three of the men went down trusting their pledge and covenant; Khubayb, Zayd ibn Ad-Dathinnah, and a third man. When the disbelievers captured them and tied them up with the strings of their bows, the third companion said: "This is the start of a betrayal. By Allah, I will not go with you. I have a clear example in these (killed companions)." So they dragged him and tried to force him to accompany them, but he refused, so they killed him. They took Khubayb and Zayd ibn Ad-Dathinnah with them and sold them as slaves in Makkah. This incident took place after the battle of Badr. Khubayb was bought by the children of Al-Hārith ibn ‘Āmir ibn Nawfal ibn ‘Abd Manāf. It was Khubayb who had killed Al-Hārith in the battle of Badr. Khubayb remained as their prisoner for a several days, until they decided to kill him. Khubayb borrowed a razor from one of Al-Hārith’s daughters to shave his pubic hair. Without her being aware, her little son crawled towards Khubayb. When she saw her son on Khubayb's knee and he had the razor in his hand, she was so alarmed that Khubayb noticed the agitation on her face. He said: "Are you afraid that I will kill him? No, I will never do that." She later commented: "By Allah, I never saw a prisoner better than Khubayb. By Allah, I once saw him eating a bunch of grapes from his hand while he was chained up, but there was no such fruit at that time in Makkah. It must have been a blessing that Allah had bestowed upon Khubayb." When they took him out of the Sacred Precincts, so they could kill him outside its boundaries, Khubayb asked them to let him pray two Rak‘ahs. They allowed him to do so, so he offered the two Rak‘ahs. Then he said: "Had I not reckoned that you would think that I was anxious, I would have prayed more. O Allah, remove them altogether; slay them one by one and spare none of them." He then recited these poetic verses: "I do not care how I will be killed as long as I will die in the cause of Allah, as a Muslim. This is for Allah's sake, and if He so wills, He may bless torn and amputated limbs." It was therefore Khubayb who established the Sunnah (practice) for any Muslim who is about to be killed to pray two Rak‘ahs. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) related to his Companions what had happened to the ten Companions on the day that it happened. Later, when some disbelievers from the Quraysh were informed that ‘Āsim had been killed; they sent people to fetch a recognizable part of him to confirm his death. They did so, because ‘Āsim had previously killed one of their chiefs. So Allah sent a swarm of bees, resembling a shady cloud, to hover over the body of ‘Āsim to shield him from their messengers, so they could not cut off any part of him.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5001

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عاصم بن ثابت انصاری اور ان کے ساتھی صحابہ رضی اللہ عنھم کے اس قصے میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی ایک واضح کرامت کا ثبوت ہے۔ نبی ﷺ نے ان دس صحابہ رضی اللہ عنھم کو دشمنان اسلام کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمایا تھا؛ تاکہ ان کی خبریں اور خفیہ اطلاعات بہم پہنچائیں۔ جب صحابہ کی یہ جماعت، مکہ مکرمہ کے قریب پہنچی، تو قبیلۂ ہذیل کی ایک جماعت کو ان کی آمد کا پتہ چل گیا اور ماہر تیر اندازوں پر مشتمل لگ بھگ سو افراد کی جمعیت ان کی جانب نکل پڑی۔ انھوں نے نقش قدم کا تعاقب کرتے ہوئے ان کا گھیراؤ کرلیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے امان میں نیچے اتر جائیں۔ انھوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ انھیں قتل نہیں کریں گے۔ لیکن عاصم رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ میں کسی کافر کے عہد وپیمان پر نہیں اتروں گا؛ کیوں کہ کافر نے اللہ سے خیانت کی ہے اور جو اللہ سے خیانت کر سکتا ہے، وہ اس کے بندوں سے بھی کر سکتا ہے۔ انھوں نے صحابہ پر تیر برسانی شروع کردی اور عاصم اور دیگر چھے صحابۂ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو شہید کردیا۔ دس میں سے تین باقی رہ گئے، جو نیچے اترنے پر راضی ہوگئے۔ ہذیلیوں نے انھیں پکڑلیا اور ان کے ہاتھ باندھ دیئے۔ اس پر تیسرے صحابی نے کہا کہ یہ سب سے پہلی عہد شکنی ہے۔ میں تمھارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ انھوں نے انھیں بھی شہید کردیا۔ پھر انھوں نے خبیب اور ان کے ساتھی کو مکہ لے جاکر فروخت کردیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ میں سے ان لوگوں نے خریدلیا، جن کے ایک سردار کو خبیب رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں قتل کیا تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ان سے بدلہ لینے کا یہی موقع ہے۔ انھوں نے خبیب کو اپنے ہاں قید رکھا۔ انھیں دنوں بنو حارثہ کے گھر کا ایک چھوٹا سا بچہ خبیب رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کے دل میں اس بچے کے لیے شفقت و رحمت کے جذبات امنڈ پڑے۔ انھوں نے اسے اپنی ران پر بٹھالیا۔ قبل ازیں انھوں نےاپنے زیرناف بال کاٹنے کے لیے گھر والوں سے استرہ مانگ کر لیا تھا اور بچے کی ماں اس سے بالکل ان جان تھی۔ جب اس کو اس امر کا پتہ چلا تو خو ف زدہ ہوگئی کہ کہیں خبیب بچے کو قتل نہ کردیں؛ صحابی رضی اللہ عنہ نے جب محسوس کیا کہ بچے کی ماں خوف زدہ ہوگئی ہے، تو اس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایاکہ اللہ کی قسم! میرا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ خاتون کہا کرتی تھیں:اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے ایک دن دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں انگور کا ایک گچھا ہے، جس میں سے وہ کھا رہے ہیں، جب کہ مکہ مکرمہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ میں جان گئی کہ یہ اللہ عز وجل کی جانب سے خبیب رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی کا ایک مظہر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مکے میں اسیری کی حالت میں ان کے کھانے کا انتظام کرتے ہوئے (آسمان سے) انگور کے گچھے نازل فرمادیے۔ پھر ان لوگوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا، جن کے والد کو انھوں نے(غزوۂ بدرمیں)قتل کیا تھا، لیکن حرم مکہ کے احترام میں انھوں نے طے کیا کہ انھیں حدود حرم کے باہر لے جاکر قتل کریں گے۔ چنانچہ جب وہ خبیب کو قتل کرنے کے لیے حدود حرم کے باہر "حل" کی جانب نکلے،تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے دو رکعت نماز ادا کرنے کی درخواست کی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ تم یہ کہنے لگو کہ یہ قتل ہونے سے ڈر گیا ہے-یا اس جیسی کوئی اور بات کہی-، تو اور نمازیں پڑھتا۔ انھوں نے دو رکعت ہی پڑھی اور پھر ان کے حق میں تین بد دعائیں کیں: اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو گن لے، ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ ہلاک کر اور ایک کو بھی باقی نہ رہنے دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمالی۔ ان میں سے کوئی بھی اس سال زندہ نہ رہا، بلکہ ان سب کو قتل کردیا گیا۔ یہ بھی اس صحابی جلیل کے شرف و کرامات میں سے ہے۔
پھر انھوں نے یہ اشعار پڑھائے:
جب میں اسلام کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر پچھاڑا جائے گا اور یہ سب تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے، تو میرےپھٹے ہوۓ جسم کے ایک ایک جوڑ پر ثواب عطا فرمائے۔
دوسری جانب، شہید ہونے والے صحابی عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خبر جب قریش کے بعض لوگوں تک پہنچی، جن کے ایک سردار کو عاصم نے قتل کیا تھا، تو انھوں نے کچھ لوگوں کو ان کی شناخت کے لیے ان کے کسی عضو کو کاٹ کر لانے کی خاطر روانہ کیا؛ تاکہ انھیں اطمینان ہوجائے کہ واقعی انھیں کو قتل کیا گیا ہے۔ جب یہ لوگ ان کا کوئی عضو حاصل کرنے کے لیے پہنچے، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بادل کی طرح شہد کی مکھیوں کا جھنڈ بھیجا، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں سے ان کی حفاظت فرمائی۔ دشمن ان کے پاس پہنچنے سےعاجز رہ گئے اور ناکام و نامراد لوٹ گئے۔
یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے عاصم رضی اللہ عنہ کےلیے شرف و کرامت کا اظہار تھا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے جسم کو دشمنوں سے محفوظ رکھا، جو ان کے جسم کا مثلہ کرنے کے خواہش مند تھے۔

Explanation

The story of ‘Āsim ibn Thābit al-Ansāri and his companions (may Allah be pleased with all of them) shows a clear miracle that was granted to a group of the Companions of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). The Prophet dispatched ten of his Companions to spy on the enemy and report their news to him. As they approached Makkah, some of the Hudhayl tribe came to know about them, so they sent a hundred master archers to deal with them. They tracked them down until they were able to surround them. They pledged not to kill them if they surrendered, but ‘Āsim swore that he would never believe the pledge of a disbeliever, because the disbelievers betrayed Allah, the Exalted, and anyone who betrayed Allah could also betray Allah's servants. They shot at them with their arrows, leaving ‘Āsim and six others dead. The remaining three companions agreed to surrender. The raiders captured them and tied their hands up. Upon seeing this, one of the Companions said that this was the start of them breaking their pledge and swore that he would never go with the raiders; so they killed him. They sold Khubayb and his comrade as slaves in Makkah. A family, whose leader had been killed by Khubayb in the battle of Badr, bought Khubayb believing that this was their opportunity to avenge their leader's death and they kept him as a prisoner. One day, one of the children from the family came up to Khubayb, may Allah be pleased with him. Khubayb felt compassion towards the child, so he lifted him up onto his knee, because the mother was busy with something else. He had previously borrowed a razor from the family to shave his pubic hair, so when the mother saw her child with Khubayb, she was afraid that he would kill him. However, he (may Allah be pleased with him) sensed her fear and assured her that he would never harm him. That mother used to say that she swore by Allah that she had never seen a prisoner better than Khubayb. She said that she saw him eating a bunch of grapes one day, at a time when Makkah had no grapes. She knew this was a blessing granted by Allah to Khubayb while he was a prisoner in Makkah. Nonetheless, the family whose leader had been killed by Khubayb decided to kill him, but out of respect to Makkah, they decided to kill him outside the Sacred Precincts. He asked them to let him pray two Rak‘ahs. After he had finished praying, he told them he that he had wanted to pray more but only prayed two Rak‘ahs because he did not want them to think he was prolonging the prayer because he was afraid of death. He then made the following supplication against them: "O Allah, remove them altogether; slay them one by one, and spare none of them." Allah accepted his supplication and they all died within a year. He recited the following poetic verses: "I do not care how I will be killed as long as I will die in the cause of Allah, as a Muslim. This is for Allah's sake, and if He so wills, He may bless torn and amputated limbs." As for ‘Āsim ibn Thābit (may Allah be pleased with him) who had been killed; a family from the Quraysh whose leader had been killed by ‘Āsim heard about his death. They sent some people to bring a identifiable part of his body [to ensure that he was dead], but Allah, Exalted and Glorified, sent a swarm of bees to hover over his body like a cloud to protect him from them; so they couldn't get close to him and their attempt was vain. This was another miracle that Allah, the Exalted, granted to ‘Āsim (may Allah be pleased with him). Allah, the Exalted, protected his body after his death from the enemies who wanted to mutilate his corpse.

Topics موضوعات