”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5037Sahih Muslim (HadeethEnc 5037)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے حکمرانوں کے بارے میں پوچھا گيا، جو لوگوں سے اپنی بات ماننے اور پیروی کرنے کا مطالبہ کرتے ہيں، لیکن انصاف کرنے، مال غنیمت دینے، ظلم سے بچانے اور برابری کا معاملہ کرنے جیسے اپنے اوپر عائد ہونے والے لوگوں کے حقوق ادا نہيں کرتے۔ ایسے میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے؟
یہ سوال سننے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سائل سے منہ پھیر لیا۔ ایسا لگا کہ آپ کو یہ سوال پسند نہيں آیا۔ لیکن سائل اپنا سوال دوسری بار اور پھر تیسری بار دوہراتا رہا۔ یہ دیکھ کر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے خاموش کرنے کے لیے سائل کو کھینچا۔
لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سوال کا جواب دے دیا۔ فرمایا : تم ان کی بات سنو اور ان کے حکم کی تعمیل کرو۔ کیوں کہ ان کو عدل و انصاف کرنے اور عوام کو ان کا حق دینے جیسی ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو ان کے سر پر ڈالی گئی ہيں اور تمہیں اطاعت گزاری، حقوق کی ادائیگی اور آزمائش کے موقع پر صبر جیسی ان ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو تمھارے سر پر ڈالی گئی ہيں۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کی رضا جوئی کے کاموں میں حکمرانوں کی بات سنی جائے گی اور ان کی اطاعت ہر حال میں کی جائے گی، خواہ وہ رعیت کا حق ادا نہ بھی کرتے ہوں۔
- حکمرانوں کی جانب سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں ہونے والی کوتاہی اس بات کی اجازت نہيں دیتی کہ عوام بھی اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے لگیں۔ کیوں کہ ہر انسان سے خود اس کے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور خود اس کی کوتاہی کا مؤاخذہ ہوگا۔
- دین کی بنیاد جیسے کو تیسا کے اصول پر نہیں، بلکہ اپنی ذمے داریاں ادا کرنے پر ہے۔ خواہ سامنے والا شخص اپنی ذمے داری کی ادائیگی میں کوتاہی ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ یہی بات اس حدیث میں کہی گئی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was asked about the rulers who demand their right from people, i.e., to listen and obey and withhold the right that is due to them, namely fulfilling justice, giving the spoils of war, redressing and settling grievances. What do you command us to do with them?
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) turned away from him as if he disliked these kinds of questions. However, the questioner repeated his question for the second and third time; thereupon, Al-Ash‘ath ibn Qays (may Allah be pleased with him) pulled the questioner to silence him.
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) answered by saying: Listen to what they say and obey their command, as they are only responsible for their duty and for what is entrusted to them of fulfilling justice and giving the subjects their rights, and you are responsible for your duty of obedience, fulfilling rights, and enduring misfortunes patiently.