جو مسلمان کوئی دعا کرتا ہے، جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو، اسے اللہ تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5100Musnad Ahmad (HadeethEnc 5100)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب ایک مسلمان کوئی دعا کرتا ہے اور اللہ سے کوئی ایسی چیز مانگتا ہے، جو گناہ پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ کسی گناہ یا ظلم کو آسان کرنے کی دعا نہ کرتا ہو، اسی طرح اس کی مانگی ہوئی چیز قطع رحمی پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ اپنے بال بچوں اور رشتے داروں کے حق میں بد دعا نہ کرتا ہو، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے: یا تو اس کی دعا کو فورا قبولیت سے سرفراز کرتے ہوئے اسے اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دیتا ہے۔ یا پھر آخرت میں اس کا اجر وثواب ذخیرہ کرتے ہوئے اس کے درجات بلند کرتا ہے یا اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے یا گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ یا پھر دنیا میں دعا کے بہ قدر اس سے برائی دور کر دیتا ہے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا: تب تو ہم زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں گے، تاکہ ان میں سے کوئی ایک فضیلت حاصل کر سکیں؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم جو کچھ مانگو گے اللہ کے پاس اس سے بہت زیادہ اور اس سے بڑی بڑی نوازشیں موجود ہیں۔ اللہ کی نوازشیں کبھی ختم نہيں ہوتیں۔
حدیث کے فوائد
- مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ رد نہیں ہوتی۔ بشرط کہ اس کے اندر دعا کے آداب و شروط پائے جاتے ہوں۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ دعا کرے اور قبول ہو جانے کی جلدی میں نہ رہے۔
- دعا قبول ہونے کا مطلب حصول مقصود ہی نہیں ہے۔ دعا کے بدلے میں گناہوں کی معافی بھی ہو سکتی ہے یا اسے آخرت کے لیے ذخیرہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔
- ابن باز کہتے ہيں: الحاح وزاری، اللہ سے حسن ظن اور مایوس نہ ہونا دعا قبول ہونے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہيں۔ اس لیے انسان کو دعا کرتے وقت الحاح وزاری کرنا چاہیے، اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہیے اور دل کے اندر یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ کبھی کسی حکمت کے پیش نظر دعا فورا قبول کر لیتا ہے، کبھی کسی حکمت کے پیش نظر بدیر قبول کرتا ہے اور کبھی مانگنے والے کو اس کی مانگی ہوئی چیز سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that when a Muslim supplicates Allah and asks for something that is not sinful, like asking for the facilitation of sin or injustice, nor does he ask for severing ties of kinship, like supplicating against his children or relatives, then Allah will grant him, through his supplication, one of three things: He will either hasten the fulfillment of his supplication and grant him what he asked for. Or Allah Almighty will delay it as a reward for him on the Day of Judgment by being elevated in rank or receiving mercy and forgiveness of misdeeds. Or He will prevent harm, in proportion to his supplication, from befalling him in his worldly life. Thereupon, the Companions said to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): Then we should supplicate more to attain one of these advantages. He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: What Allah possesses is way more and greater than anything you could ask for, for His bounty is infinite and endless.