رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5141Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5141)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سخت پریشانی اور شدید غم واندوہ کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ «العظيم» وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں عظیم مرتبے اور بڑی شان والا ہے۔ «الحليم» وہ بردبار ہے، جو کسی نافرمان بندے کو فورا سزا نہیں دیتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو معاف بھی کر دیتا ہے۔ جب کہ اس کے پاس سزا دینے کی پوری طاقت موجود ہے۔ کیوں کہ وہ پروردگار سب کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ «لا إله إلا الله رب العرش العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں، جو عرش عظیم کا خالق ہے۔ «لا إله إلا الله رب السموات والأرض» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں، جو آسمانوں اور زمین کا رب وخالق اور ان کے اندر موجود تمام چیزوں کا خالق، مالک، مصلح اور اپنی مشیت سے ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ «رب العرش الكريم» جو عرش عظیم کا خالق ہے۔
حدیث کے فوائد
- مصیبتیں اور پریشانیاں آنے پر اللہ سے لو لگانا اور دعا کرنا واجب ہے۔
- پریشانی کے وقت یہ دعا کرنا مستحب ہے۔
- رحمن کا عرش، جس پر وہ مستوی ہے، سب سے بلند، سب سے بڑی اور سب سے عظیم مخلوق ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے عظیم اور کریم سے متصف کیا ہے۔
- یہاں بطور خاص آسمانوں اور زمین کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں ہمیں نظر آنے والی عظیم ترین مخلوقات میں سے ہیں۔
- طیبی کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حمد وثنا کا آغاز رب کے ذکر سے کیا، تاکہ پریشانی کو دور کرنے کے ساتھ مناسبت رہے، کیوں کہ یہی تربیت کا تقاضا ہے۔ اس میں توحید پر مشتمل تہلیل ہے جو اللہ کو تمام کمیوں اور عیوب سے پاک کرنے کی اصل بنیاد ہے، عظمت کا بیان ہے جو اللہ کی قدرت تامہ پر دلالت کرتی ہے، حلم وبردباری کا ذکر ہے جو علم پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ کسی جاہل کے اندر علم اور کرم جیسے اوصاف کے پائے جانے کا تصور نہيں کیا جا سکتا، جب کہ یہ دونوں صفات اوصاف کریمہ کی بنیاد اور اصل ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) used to say at times of intense distress and grief: "There is no god but Allah." No deity is truly worthy of worship but Allah, "the Most Magnificent" in status, the One of great significance in His essence, attributes, and actions. "The Forbearing" Who does not hasten the sinner's punishment; rather, He delays it, and He might pardon him despite having the ability to punish him, as He is the One Able to do all things. "There is no god but Allah, the Lord of the Mighty Throne," the Creator of the Mighty Throne. "There is no god but Allah the Lord of the heavens and the earth" and their Creator and the Creator, Possessor, Manager, and Disposer of everything therein the way He wills. "The Lord of the Noble Throne," the Creator of the Mighty Throne.