صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5212Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ} [النصر: 1] إِلَّا يَقُولُ فِيهَا: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي».
وعَنْها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی نماز پڑھی، تو اس کے اندر یہ دعا ضرور پڑھی : "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔ انہی سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔ آپ ﷺ دراصل ایسا کر کے قرآن کے اندر دیے گئے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah, Mother of the Believers, (may Allah be pleased with her) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) did not offer a prayer after the revelation of {When there comes Allah’s help and the conquest} [Surat an-Nasr: 1] except that he would say therein: "Subhānaka Rabbana wa bihamdik, Allāhumma ighfir li (Glory and praise be to You, our Lord. O Allah, forgive me)". She also reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used to say frequently in his Rukū‘ and Sujūd: "Subhānak Allāhumma Rabbana wa bihamdik, Allāhumma ighfir li (Glory and praise be to You, O Allah, our Lord. O Allah, forgive me)" in compliance with the command in the Qur’an.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5212

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث میں بیان فرما رہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} نازل فرمائی، تو فورا اللہ تعالیٰ کے حکم (آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے) کی تعمیل میں لگ گئے۔ چنانچہ آپ نماز کے اندر رکوع اور سجدے میں کثرت سے "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" پڑھتے تھے۔ «سبحانك» "میں تیرى پاکى بیان کرتا ہو اور تجھ کو منزہ قرار دیتا ہوں ہر کمى سے اور کمى تیرے شایان شان نہیں ہے، «اللهم ربنا وبحمدك» "اے اللہ ہمارے رب! تیرى بہترین تعریف وثنا کے ساتھ کیوں کہ تیرى ذات، تیرى صفات اور تیرے افعال سب کمال کے اعلى درجہ پر ہیں"، «اللهم اغفر لي» "اے اللہ میرے گناہوں کو مٹادے اور ان سے درگزر فرما"۔

حدیث کے فوائد

  • رکوع اور سجدے میں یہ دعا کثرت سے پڑھنا مستحب ہے۔
  • آخرى عمر میں استغفار کرنے میں یہ راز پنہاں ہے کہ عبادتوں، اور بطور خاص نماز کا اختتام استغفار پر ہونا چاہیے، تاکہ ان کے اندر رہ جانے والی کمیوں کا تدارک ہو جائے۔
  • قبولیت دعا کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے بہترین وسیلہ یہ ہے کہ اس کی حمد کی جائے، اس کى پاکى کو بیان کیا جائے اور نقائص و عیوب سے اس کو منزه قرار ديا جائے۔
  • استغفار کی فضیلت اور ہر حال میں مغفرت طلب کرنا۔
  • نبی کریم ﷺ عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے درجۂ کمال پر فائز تھے۔

Explanation

‘Ā’ishah, Mother of the Believers (may Allah be pleased with her), informs that upon the revelation of {When there comes Allah’s help and the conquest} to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), he complied with the command in the Qur’an and hastened to obey the command of Allah Almighty in His saying: {Then glorify the praise of your Lord, and ask His forgiveness}. Therefore, he used to frequently say in his Rukū‘ (bowing) and Sujūd (prostration) during the prayer, "Glory be to You," and may You be Exalted above any deficiency that does not befit You. "And praise, O Allah, our Lord," praise that is rightfully due to You for the perfection of Your essence, attributes, and actions. "O Allah, forgive me" and erase and overlook my sin.

Topics موضوعات