رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5213Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5213)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
آپ ﷺ نے کسی صحابی کو ایک سریہ کا امیر بنایا، تاکہ وہ (سریہ میں شامل) لوگوں کے انتظامی امور سنبھالیں، (اختلاف کی صورت میں) ان کے درمیان فیصلہ کریں اور کسی طرح کی کوئ بد نظمی نہ پیدا ہو۔ آپ ﷺ امیر اسی کو بناتے، جو لوگوں میں دین، علم اور کارکردگی کے اعتبار سے سب سے مناسب ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جنگوں میں امیر ہی نماز کے امام ہوتے تھے اور اپنی علمی اور دینی برتری کی وجہ سے فتوے بھی وہی دیتے۔ چانچہ (مذکورہ) امیر اللہ تعالیٰ اور اس کے اسما و صفات سے محبت کی وجہ سے ہر نماز کی دوسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پڑھتے تھے، اس لیے کہ جو شخص جس چیز سے محبت کرتا ہے، وہ اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔
یہ لوگ جب غزوے سے واپس اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ یہ محض اتفاق تھا یا اس کی کوئ وجہ تھی؟
امیر نے کہا کہ میں اس لیے ایسا کرتا تھا کہ یہ سورت رحمٰن کی صفات پر مشتمل ہے، اس لیے میں اسے بار بار پڑھنا پسند کرتا ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بتادو کہ جس طرح وہ اس سورت سے محبت کی وجہ سے اسےبار بار پڑھتا تھا، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی عظیم صفات پر مشتمل ہے، جن پراس میں مذکور اسما دلالت کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) appointed a man in charge of an army unit to be in charge and judge between them so that everything take place in an orderly fashion and without chaos. He chose the most religious, knowledgeable, and expert one of them. For this reason, rulers and scholars were to lead the prayers due to their knowledge and religion. He always concluded his recitation with Sūrat al-Ikhlās in the second Rak‘ah of every prayer because of his love of Allah and His names and attributes. It is natural whenever someone loves something that he increases its remembrance. When they returned to Madīnah, they reported this to the Prophet. So he said: "Ask him why he does this!" Is it a coincidence, or is there a special reason? The leader said: "I do this because this Sūrah contains the attributes of the Most Merciful and I love to repeat it because of this. So the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Inform him, just as he repeats this Sūrah – because of what it contains of Allah's beautiful names and attributes and because he loves it – Allah loves him as well."