جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اُسے روکے۔ کیوں کہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے“۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5280Sahih Muslim (HadeethEnc 5280)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی جانب رہنمائی کی کہ جسے جمائی آئے اور وہ سستی یا شکم سیری وغیرہ کی وجہ سے اپنا منہ کھولے، وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اسے بند کر لے۔ ایسا اس لیے کہ منہ کھلا چھوڑ دینے پر شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے اور ہاتھ رکھ دینے کے بعد اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہ جاتا۔
حدیث کے فوائد
- جسے جمائی آئے وہ جہاں تک ہو سکے روکنے کی کوشش کرے، اپنے منہ کو بند رکھے اور کھلنے نہ دے۔ لیکن اگر بند نہ رکھ سکے، تو منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے اور اسے اپنے ہاتھ سے ڈھانپ دے۔
- ہر حال میں اسلامی آدب کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے، کیوں کہ یہ کمال اور اخلاق مندی کی علامت ہے۔
- انسان کے اندر شیطان کے داخل ہونے کے تمام راستوں کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) instructed anyone who yawns, opening his mouth due to laziness, fullness, or similar reasons, to place his hand over his mouth to close it. This is because the devil enters if the mouth is left open, and placing the hand prevents him from entering.