برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5332Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5332)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کچھ ایسی چیزوں سے منع کر رہے ہیں، جو مسلمانوں کے آپسی انتشار اور دشمنی کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں سے کچھ چیزیں یہ ہیں :
"الظن" : دل میں آنے والا ایسا برا خیال جس کی کوئی دلیل نہ ہو۔ آپ نے بتایا ہے کہ یہ سب سے بڑی جھوٹی باتوں میں سے ہے۔
"التَّحَسُّس" : آنکھ یا کان کے ذریعے لوگوں کی چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔
"التَّجَسُّس" : چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔ اس لفظ کا استعمال اکثر برائی کی ٹوہ میں پڑنے کے لثیے ہوتا ہے۔
"الحسد" : دوسروں کو نعمت ملے، اس بات کو ناپسند کرنا۔
"التدابر" : لوگ ایک دوسرے سے ملیں اور کنی کاٹ کر نکل جائيں۔ نہ سلام کلام ہو اور نہ ایک دوسرے سے میل جول رکھیں۔
"التباغض" : ایک دوسرے کو ناپسند کرنا اور ایک دوسرے سے نفرت کرنا۔ مثلا دوسروں کو اذیت دینا، کسی کو دیکھ کر منہ بنانا اور اچھے سے نہ ملنا۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی جامع بات کہی، جس سے مسلمانوں کے آپسی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ فرمایا : "اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔" دراصل اخوت ایک ایسا رابطہ ہے، جس سے لوگوں کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور پیار ومحبت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
حدیث کے فوائد
- کسی ایسے شخص کے بارے میں برا گمان رکھنا نقصان دہ نہیں ہے، جس کے اندر اس کے آثار دکھائی پڑتے ہوں۔ مؤمن کو اس بات سے خبردار رہنا چاہیے کہ برے اور گناہ گار لوگوں سے دھوکہ نہ کھائے۔
- یہاں مقصد اس برے گمان سے دور رکھنا ہے، جو دل میں بیٹھ جائے اور نکلنے کا نام نہ لے۔ جہاں تک ایسے برے گمان کی بات ہے، جو دل میں آئے اور ٹھہرے بغیر نکل جائے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
- کسی کی برائی کی ٹوہ میں رہنا اور حسد وغیرہ یہ ساری چیزیں حرام ہیں، جو مسلم سماج کے افراد کے بیچ آپسی نفرت اور قطع تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
- اس بات کی وصیت کہ ایک مسلمان کے ساتھ بھائی جیسا معاملہ کرتے ہوئے اس کی خیر خواہی کرنی چاہیے اور اس سے محبت رکھنی چاہیے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prohibits and warns against some of what could lead to dissension and enmity among Muslims. This includes the following:
"Zhann" (false thought): It is a baseless suspicion arising in the heart, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that it is the falsest of speech.
"Tahassus" (searching for faults): It is to look for others' flaws through the eye or the ear.
"Tajassus" (spying): It is searching for hidden affairs, and it is mostly used in a negative context.
"Hasad" (envy): It is hating to see others enjoying a blessing.
"Tadābur" (turning one's back on others): It is turning away from one another and refraining from greeting or visiting one's Muslim brother.
"Tabāghud" (harboring hatred): It is malice and aversion such as harming others, frowning, and meeting people in a bad manner.
Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said a comprehensive statement that guarantees maintaining good relations between Muslims, saying: "And be, O slaves of Allah, brothers". Brotherhood is a bond that unites people and enhances love and familiarity among them.