مسلمان کو گالی دینا فسق کا کام اور اس سے لڑنا کفر ہے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5333Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5333)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ گالی گلوج کرے۔ اسے آپ نے فسق یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کے دائرے سے باہر نکلنا بتایا ہے۔ آپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے لڑنا کفریہ عمل ہے۔ لیکن یہ کفر اصغر ہے۔
حدیث کے فوائد
- مسلمان کے خون او اس کى عزت وناموس کا احترام کرنا واجب ہے۔
- کسی مسلمان کو ناحق گالی دینے والے کا بھیانک انجام کہ آپ نے اسے فاسق کہا ہے۔
- کسی مسلمان کو گالی دینا اور اس سے لڑنا ایسے اعمال ہیں جو ایمان کو کمزور اور ناقص بنا دیتے ہیں۔
- کچھ ایسے بھی اعمال کو کفر کہا گیا ہے، لیکن وہ ملت اسلام سے خارج کر دینے والا کفر اکبر نہیں ہوا کرتے۔
- یہاں کفر سے مراد کفر اصغر ہے، جو انسان کو اسلام کے دائرے سے باہر نہیں نکالتا۔ اس بات پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔ کیوں کہ خود اللہ عز و جل نے جھگڑے اور اختلاف کے وقت بھی اخوت ایمانی باقی رہنے کی بات کہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں، تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے، تو تم (سب) اس گروه سے، جو زیادتی کرتا ہے، لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اگر لوٹ آئے، تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو۔ بےشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔"
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade the Muslim from cursing and reviling his Muslim brother, stating that this is an act of Fusūq, which means disobeying Allah and His Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him), and fighting his Muslim brother is an act of Kufr, yet it is minor Kufr.