وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5380Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5380)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت والوں کے کچھ افعال سے منع اور خبردار کیا ہے۔ فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے:
1- جو رخسار پیٹے۔ آپ نے بطور خاص رخسار پیٹنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس طرح کے موقعوں پر عام طور سے رخسار ہی پیٹا جاتا ہے۔ ورنہ چہرے کے باقی حصے کو پیٹنا بھی ممانعت میں داخل ہے۔
2- جس نے جزع فزع کرتے ہوئے گریبان پھاڑا۔
3- دور جاہلیت کے لوگوں کی بول بولے۔ مثلا ہائے ہائے اور بربادى کا الاپ لگائے, نوحہ اور ماتم وغیرہ کرے۔
حدیث کے فوائد
- اس حدیث میں وارد وعید بتاتی ہے کہ یہ اعمال کبیرہ گناہوں میں داخل ہيں۔
- مصیبت کے وقت صبر کرنا واجب ہے۔ اور اللہ کی تکلیف دہ تقدیر پر ناراض ہونا اور نوحہ وماتم یا سر منڈواکریا گریبان پھاڑ کر یا اس طرح کا کوئى اور کام کرکے اللہ کى تقدیر سے ناراضگى کا اظہار کرنا حرام ہے۔
- دور جاہلیت کے ان کاموں کی تقلید کرنا حرام ہے، جنھیں شریعت نے برقرار نہیں رکھا ہے۔
- غمزدہ ہونے اور رونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالی کے فیصلے پر صبر کرنے کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ رحمت ہے، جسے اللہ نے رشتہ داروں اور احباب کے دل میں پیدا فرمایا ہے۔
- مسلمان کی ذمے داری ہے کہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے۔ اگر راضی نہیں بھی ہو سکا، تو کم از کم صبر کرنا واجب ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade and warned against some of the practices of the people of Jāhliyyah, saying: He is not one of us:
First: The one who slaps the cheeks, and the cheek is mentioned in particular because it is the part usually slapped; otherwise, slapping the rest of the face is included in the prohibition.
Second: The one who splits the opened part of the garment through which the head is entered due to severe discontentment.
Third: The one who calls out with the calls of the people of Jāhiliyyah, like supplicating for ruin and destruction, wailing, lamenting, etc.