يہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
قالت: ولولا ذلك لأُبْرِزَ قبره؛ غير أنه خُشِيَ أن يتخذ مسجدًا.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی، تو آپ ﷺ کی قبر مبارک ظاہر کر کے بنائی جاتی؛ لیکن آپ ﷺ کو خدشہ تھا کہ کہیں اسے سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5379Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5379)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ تعالی نے رسولوں کو توحید کے پرچار کے لیے بھیجا۔ رسولوں میں سے سب سے افضل رسول نبی کریم ﷺ ہیں، جو توحید کے پرچار اورشرک کے تمام وسائل کا سد باب کرنے کے بہت حریص تھے۔ آپ ﷺ کے مرض وفات میں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی آپ ﷺ کی دیکھ بھال کرتیں اور جب آپ ﷺ کی روح مبارک قبض ہوئی، تو اس وقت بھی وہ وہاں موجود تھیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ اس مرض میں، جس سے آپ ﷺ جاں بر نہ ہو سکے، آپ ﷺ نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ کہیں آپ ﷺ کی قبر مبارک کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور پھر حالت یہ ہو کہ اللہ کی عبادت کی بجائے آپ ﷺ ہی کی عبادت شروع ہوجائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاری پر، جنھوں ںے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“، آپ ﷺ ان کے لیے یا تو بد دعا فرما رہے ہیں یا یہ بتا رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ آپ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے اور آپ ﷺ کا یہ فرمان منسوخ نہیں ہوا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ یہود و نصاری کے عمل سے ڈرا رہے ہیں۔ چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی مراد سمجھ گئے اور انھوں نے قبرمبارک عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بنائی۔ نیز نہ تو صحابۂ کرام سے اور نہ ان کے بعد آنے والے سلف صالحین سے منقول ہے کہ کبھی وہ آپ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف، وہاں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کے ارادے سے گئے ہوں۔
جب سنت کی جگہ بدعت نے لے لی اور قبروں کی طرف سفر کرنے کا رواج ہو گیا، تب بھی اللہ تعالی نے اپنی نبی ﷺ کی قبر مبارک کو ان باتوں سے محفوظ رکھا، جو آپ ﷺ کو ناپسند تھیں۔ اللہ تعالی نے قبر مبارک کی تین مضبوط رکاوٹوں کے ذریعے سے حفاظت کی، جن سے گزرنے کا کسی بدعتی کو موقع نہیں ملتا۔
Explanation
‘Ā’ishah, Mother of the Believers, (may Allah be pleased with her) informed that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said during his illness that became severe and led to his death: May Allah curse the Jews and Christians and expel them from His mercy, for they took the graves of their prophets as places of worship by building over graves, praying at them, or facing them in worship. Then she (may Allah be pleased with her) said: If it were not for that prohibition and warning from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), and the Companions' fear that his grave might be treated the way the Jews and Christians treated the graves of their prophets, his grave would have been made apparent and prominent.