سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن نسائی
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan an-Nasa'i

اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5479Sahih صحیح
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّعَاءُ لاَ يُرَدُّ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Supplication between the Adhān (call to prayer) and the Iqāmah (second call to prayer) is not rejected."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'i
Original wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5479

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کی فضیلت بتائی ہے۔ فضیلت یہ ہے کہ اس وقت کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی اور قبول کی جاتی ہے۔ اس لیے اس درمیان اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔

حدیث کے فوائد

  • اس وقت دعا کرنے کی فضیلت۔
  • دعا کرنے والا جب آداب دعا کا اہتمام کرے، دعا قبول ہونے کی جگہوں اور اوقات کا لحاظ کرتے ہوئے دعا کرے، اللہ کی نافرمانی سے دور رہے، شک و شبہ کی جگہوں پر قدم رکھنے سے اجتناب کرے اور اللہ سے حسن ظن رکھے، تو اس بات کی توقع ہے کہ اللہ کی اجازت سے اس کی دعا قبول ہو۔
  • مناوی دعا قبول ہونے کے بارے میں کہتے ہیں : دعا قبول اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی شرطوں، ارکان اور آداب كا کیا خیال رکھا جائے۔ اگر ان میں سے کسی چيز کا خیال نہ رکھا گیا، تو دعا قبول نہ ہونے کا ذمے دار انسان خود ہے۔
  • دعا قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو انسان کو اس کی مانگی ہوئی چيز دے دی جائے یا اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دی جائے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع کر کے رکھ دیا جائے۔ ان سب باتوں کا انحصار اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out the merit of supplication between the Adhān and the Iqāmah and that it is not rejected and is worthy to be answered, so supplicate Allah during such a time.

Topics موضوعات