”بہت زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن گواہی دینے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی شفاعت کرنے والے ہوں گے“۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5495Sahih Muslim (HadeethEnc 5495)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ غیر مستحق شخص پر بہت زیادہ لعنت کرنے والا دو سزاؤں کا مستحق ہے: پہلی: وہ قیامت کے دن اس بات کی گواہی نہیں دے گا کہ پچھلی امتوں کو ان کے رسولوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا، دنیا میں اس فسق کی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اسے اللہ کی راہ میں شہادت نصیب نہیں ہوگی۔ دوسری: قیامت کے دن، جب دوسرے مومن جہنم کے حق دار بن چکے اپنے مومن بھائیوں کے بارے میں سفارش کریں گے، تو وه سفارش نہیں کر سکے گا۔
حدیث کے فوائد
- لعنت وملامت کرنا حرام ہے اور کثرت سے لعنت کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
- اس حدیث میں بیان کی گئی سزا اس شخص کے بارے میں ہے، جو بہ کثرت لعنت کرتا ہو۔ ایک دو بار لعنت کرنے والے کے بارے میں نہیں۔ پھر لعنت کبھی کبھی مباح بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی بغیر کسی شخص کی تعیین کے مذموم اوصاف کے حامل لوگوں پر لعنت، جن پر شرعی طور پر لعنت کی گئی ہے۔ جیسے یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو، تصویر بنانے والوں پر اللہ کی لعنت ہو، قوم لوط والے عمل میں ملوث ہونے والے پر اللہ کی لعنت ہو، غیراللہ کے لیے جانور ذبح کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو، عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، وغیرہ کہنا۔
- قیامت کے دن مومنوں کی شفاعت کا اثبات۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that whoever frequently and unjustly curses others deserves two punishments: First: He will not be a witness on the Day of Judgment over the nations that the divine messages were conveyed to them through their messengers; his testimony will not be accepted in this world due to his defiant disobedience; and he will not be granted martyrdom, which is dying in the way of Allah. Second: He will not be able to intercede on the Day of Judgment when the believers intercede for their brothers who have deserved the Hellfire.