دعا ہی عبادت ہے
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5496Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5496)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ اس لیے دعا خالص طور پر اللہ کے لیے خاص ہونی چاہیے۔ چاہے دعا سوال و طلب پر مبنی ہو، مثلا یہ کہ اللہ سے دنیا و آخرت کی کوئی بھلائی مانگی جائے یا نقصان دہ چیز سے حفاظت مانگی جائے، یا پھر عبادت پر مبنی ہو۔ عبادت پر مبنی دعا سے مراد ہر وہ ظاہری و باطنی قول و عمل ہے، جو اللہ کو محبوب و پسند ہو۔ اس میں قلبی، بدنی اور مالی ساری عبادتیں داخل ہیں۔
پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔)
حدیث کے فوائد
- دعا ہی اصل عبادت ہے، اس لیے دعا غیر اللہ سے کرنا جائز نہيں ہے۔
- دعا بندگی کی حقیقت، اللہ کے غنی اور قادر ہونے کے اعتراف اور بندے کی اللہ کے سامنے حاجت مندی پر مشتمل ہے۔
- اللہ کی عبادت سے اعراض کرنے اور اس سے دعا کرنے سے گریز کرنے پر سخت وعید اور اس بات کی صراحت آئی ہے کہ اللہ سے دعا کرنے سے اعراض کرنے والے جہنم میں ذلیل و خوار ہوکر داخل ہوں گے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that supplication is worship. So, it should be purely directed to Allah, whether supplication is that of request, as the supplicant asks Allah Almighty to bring him what is beneficial and avert from him what is harmful in this world and in the Hereafter, or supplication of worship, involving such words and deeds, inward and outward, that are beloved and pleasing to Allah, acts of worship performed within the heart or through one's body or money.
Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) cited as evidence the verse that reads: {Call upon Me; I will respond to you. Those who are too proud to worship Me will enter Hell, utterly debased.}