رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھالیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قالَ: "إنّ الشيطانَ يَحضُرُ أحدَكُم عندَ كلِ شيءٍ من شَأنِه، حتى يَحضُرَهُ عندَ طعامِهِ، فإذا سَقطتْ لقمةُ أحدِكُم فليَأخُذْها فَلْيُمِطْ ما كانِ بها من أذى، ثم ليَأكُلْها ولا يَدَعْها للشيطانِ، فإذا فَرَغَ فليَلْعَقْ أصابعَهُ، فإنه لا يَدري في أيِّ طَعامه البركة"
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی، لہذا اگر تم میں سے کسی سے اُس (کے کھانے ) کا لقمہ گر جائے تو (وہ اُس لقمے کو اٹھا لے اور) اس لقمے پرجو گندگی لگ گئی ہو اُسے صاف کر لے اور پھر اُسے کھا لے اور اُس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے کھانے کے کس سے حصے میں برکت ہے“۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5653Sahih Muslim (HadeethEnc 5653)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث میں شیطان سے ڈرایا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے تمام افعال میں اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ چنانچہ مناسب یہ ہے کہ انسان (اس سے مقابلے کے لیے) تیار اور اس سے چوکنا رہے اور اس کی مزین کردہ باتوں سے دھوکا نہ کھائے۔ انسان کے سامنے جو کھانا آتا ہے اس میں برکت ہوتی ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ برکت کھانے کے اس حصے میں ہے جسے اس نے کھا لیا ہے یا پھر اس حصے میں جو اس کی انگلیوں پر لگا ہے یا جو پلیٹ کے پیندی میں لگا رہ گیا ہے یا پھر اس لقمے میں جو نیچے گر گیا ہے۔چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سب کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ اسے برکت حاصل ہو سکے۔ برکت کا حقیقی معنی ہے بھلائی کا زیادہ ہونا، اس کا باقی رہنا اور اس سے نفع اٹھانا۔ یہاں مراد وہ کھانا ہے جس سے غذائیت حاصل ہو، جس میں کوئی گندگی نہ ہو اور جو اللہ تعالی کی اطاعت گزاری کی قوت پیدا کرے۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا کھاتے ہوئے ایسی شے نکلتی ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
Explanation
In the Hadīth there is a warning against the devil, and an alerting note about his permanent accompaniment of man in all of his affairs. Hence, one must guard himself against the devil, and not be fooled by that which he beautifies for him. There is a blessing in the food that man prepares, and he knows not whether this blessing is in the food he has already eaten, or in that left on his fingers, or in what is left in his dish, or in the morsel that fell. So one must preserve all of that in order to attain the blessing. "Blessing" originally refers to increase, continuity of goodness and benefiting therefrom. What is meant by “blessing” in this context is the achievement of nourishment, safety from harm, and strength in obeying Allah, the Exalted. A point of benefit that doctors mentioned in this regard is that while eating, the fingers tips release what aids in the digestion of food.