Hadith 5654
Sahih al-Bukhari صحیح بخاری

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا۔

5654Sahih صحیح
عن نافع: أنَّ عمرَ بنَ الخطابِ رضي الله عنه كانَ فرضَ للمهاجرينَ الأولينَ أربعةَ الآفٍ، وفَرَضَ لابنِه ثلاثةَ آلافٍ وخمسمئةٍ، فقيل له: هو من المهاجرينَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ؟ فقالَ: إنما هَاجَرَ به أبوه. يقولُ: ليسَ هو كمن هَاجَرَ بنفسِهِ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا اور اپنے بیٹے کے لئے ساڑھے تین ہزار مقرر کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ وہ بھی تو مہاجرین میں سے ہیں، ان کا وظیفہ آپ نے کم کیوں کردیا؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ: اس کے ساتھ اس کے باپ نے ہجرت کی تھی۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہو سکتا جس نے بذات خود ہجرت کی ہو۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Nafi‘ reported that ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) allocated a sum of four thousand dirhams for each of the early Muhājirūn, but for his son, he allocated three thousand five hundred. He was asked: "He is also a Muhājir, so why did you allocate a lesser sum for him?" He said: "It was his father who took him along with him. He is not like one who emigrated by himself."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5654

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو 4000 وظیفہ دیا۔ آپ کے بیٹے (عبداللہ) بھی مہاجرین ہی میں سے تھے لیکن آپ نے انہیں 3500 وظیفہ دیا کیوں کہ ان کے بیٹے نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی جب کہ وہ نابالغ تھے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اپنے بیٹے کو بالغ مہاجرین کے ساتھ ملائیں۔ چنانچہ آپ نے ان کا وظیفہ ان مہاجرین سے کم رکھا جنہوں نے بذات خود ہجرت کی تھی۔امت کے مال کے معاملے میں اس دنیا نے نبی ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کی طرح کا کوئی زاہد و متقی حکمران نہیں دیکھا۔ ہر اس شخص پر ایسا ہی طرز عمل واجب ہے جس کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی معاملے کی ذمہ داری آئے کہ نہ تو وہ کسی رشتہ دارکی اس سے تعلقِ قرابت کی بنا پر طرف داری کرے اور نہ کسی امیر کی اس کی امارت کی وجہ سے اور نہ کسی غریب کی اس کی غربت کی وجہ سے طرفداری کرے بلکہ اسے چاہیے کہ ہر ایک کو اس کے مقام پر رکھے۔ ایسا کرنا عین تقوی و عدل ہے۔

Explanation

‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) gave each of the Muhājirūn four thousand dirhams. His son was also from the Muhājirūn, but he gave him three thousand five hundred dirhams only, because it was his father, ‘Umar, who took him along with him when he emigrated and he had not yet reached puberty at the time. For this reason he did not treat him in the same way he treated the adult Muslims who emigrated by themselves. Indeed, the world have not known after the time of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and Abu Bakr As-Siddīq a ruler who was as ascetic and pious regarding the wealth of the Muslims as ‘Umar. This is the duty of any person who is in charge of the affairs of the Muslims; he must not show favoritism to his relatives, nor to a rich person because of his wealth, or a poor because of his poverty. Rather, he should treat each person properly, as this is a form of piety and justice.

Topics موضوعات