اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58144Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 58144)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ایک مسلمان کے دل میں آنے والے برے خیالات کی بنا پر اس وقت تک اس کا مواخذہ نہيں ہوگا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا ان کو بولا نہ جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے خیالات معاف ہيں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کے ذہن و دماغ میں گردش کرنے والے اور ان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو اس وقت تک قابل مواخذہ قرار نہيں دیا ہے، جب تک دل کے اندر بیٹھ نہ جائیں اور دل ان سے مطمئن نہ ہو جائے۔ ہاں جس کے دل میں تکبر، گھمنڈ اور نفاق وغیرہ برے خیالات بیٹھ جائيں اور جگہ بنالیں، یا جو اپنے اعضاء سے ان پر عمل کر لے یا زبان سے ان کا اظہار کر دے، تو پھر وہ قابل مواخذہ ہوگا۔
حدیث کے فوائد
- اللہ تبارک وتعالی نے ان افکار و خیالات کو معاف کردیا ہے، جو دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی انسان اپنے دل میں ان کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے ذہن میں وہ خیالات گزرتے ہيں۔
- اگر انسان کے ذہن میں طلاق کا خیال آئے لیکن نہ وہ زبان سے بولے اور نہ قلم سے تحریر کرے تو اس کا اپنے دل میں طلاق کی بات کرنا اور اس بارے میں سوچنا طلاق شمار نہیں کیا جائے گا۔
- دل سے گزرنے والے خیالات چاہے جتنے بڑے ہوں، اس وقت تک قابل مواخذہ نہيں ہیں، جب تک دل کے اندر جاگزیں نہ ہو جائيں اور انسان ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے ان کو نہ بولے۔
- امت محمدیہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے دل میں آنے والے برے خیالات کی بازپرس نہيں ہوگی۔ جب کہ پہلے کی تمام امتوں سے باز پرس ہونی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs that a Muslim will not be held accountable for evil thoughts he has in his mind before he acts upon them or speaks about them, as Allah has lifted the restriction and pardoned. He does not hold the Ummah of Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him) accountable for what comes to their minds and wavers in their souls, without being settled therein. If it settles in a person's heart, like arrogance, conceit, or hypocrisy, or he acts upon it with his limbs or says it with his tongue, then he will be held accountable for that.