صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتےتھے کہ” جس کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا اس پر کوئی حکم مترتب نہیں،،…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58145Sahih صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقول: «إذا حَرَّمَ امرأته ليس بشيء» وقال: {لقد كان لكم في رسول الله أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ” جس کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا اس پر کوئی حکم مترتب نہیں،، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے“۔ (الاحزاب: 21)
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) said: "If [a man] forbids his wife, this is nothing." He further quoted: {There is in the Messenger of Allah a good example to you.} [Sūrat al-Ahzāb: 21]
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58145

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا معنی ہے کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے یا ممنوع ہے یا اس جیسے الفاظ کہے تو یہ حرمت کے الفاظ طلاق کے حکم میں نہیں ہوں گے بلکہ یہ قسم ہو گا جس میں کفارہ دینا ہو گا جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ، قَدْ فَرَضَ اللَّـهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟ آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تحقیق کہ اللہ تعالی نے تمہارے لیے قسموں کو کھول دینا مقرر کیا ہے“۔ (التحریمھ 1-2) یعنی تمہارے لیے تمہارے قسموں سے پاک ہونے کا طریقہ فدیہ کی شکل میں ادا کرنا بتایا ہے جیسا کہ سورہ مائدہ میں مذکور ہے۔

Explanation

This report means that if a man says to his wife: "You are unlawful for me," or: "You are forbidden," or something similar, this saying does not constitute divorce. It will be treated like a normal oath for which an expiation is required. In this respect, Allah, the Almighty, says: {O Prophet, why do you prohibit [yourself from] what Allah has made lawful for you, seeking the approval of your wives? And Allah is Forgiving and Merciful. Allah has already ordained for you [Muslims] the dissolution of your oaths. And Allah is your protector, and He is the Knowing, the Wise} [Sūrat At-Tahrīm: 1-2]. The last verse means that Allah ordained for the Muslims the dissolution of their oath by making the expiation that is stipulated in Sūrat al-Mā’idah.

Topics موضوعات