تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58148Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58148)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ تین افراد کو چھوڑ کر تمام انسان مکلف ہیں۔ یہ تین افراد اس طرح ہیں:
چھوٹا بچہ بڑا اور بالغ ہونے تک۔
فاقد العقل مجنوں دوبارہ عقل و شعور واپس آنے تک۔
سویا ہوا انسان جاگنے تک۔
یہ تینوں مکلف نہيں ہیں اور ان سے غلط کام ہو جائے تو ان کے کھاتے میں گناہ نہیں لکھا جاتا۔ البتہ چھوٹے بچے کے کھاتے میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن مجنون اور سوئے ہوئے انسان کے کھاتے میں وہ بھی نہیں لکھی جاتی۔ کیوں کہ شعور نہ ہو نے کی وجہ سے دونوں اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کی عبادت صحیح ہو۔
حدیث کے فوائد
- انسان اپنی اہلیت سے یا تو نیند کی وجہ سے محروم ہوتا ہے، جس کے سبب وہ واجبات کو ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے، یا کم سنی اور بچپنے کی وجہ سے، جس کے سبب اس کے اندر اہلیت موجود نہیں ہوتی، یا جنون کی وجہ سے، جس کے سبب عقل وشعور کام کرنا بند کردیتا ہے، یا اس کیفیت کی وجہ سے جو جنون کے حکم میں آتی ہے، جیسے حالت نشہ۔ چنانچہ جس شخص کے اندر تمیز اور تصور کرنے کی صحیح صلاحیت مفقود ہو، اس کے اندر مذکورہ تین میں سے کسی ایک سبب کی بنا پر اہلیت بھی مفقود ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایسے شخص سے اللہ تعالی کے حق میں اگر کوئی زیادتی یا کوتاہی سرزد ہوجائے، تو اللہ تعالی اپنے عدل و انصاف، حلم و بردباری اور جود وسخا کی بنا پر اسے معاف کردیا ہے۔
- ان تینوں کے کھاتے میں گناہ نہ لکھنے کا یہ مطلب نہيں ہے کہ کچھ دنیوی احکام ان پر نافذ نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر مجنون اگر کسی کا قتل کر دے، تو اسے قصاص کے طور پر قتل نہيں کیا جائے گا اور اسے کفارہ بھی نہیں دینا نہيں۔ البتہ اس کے خاندان کو دیت دینی ہوگی۔
- بالغ ہونے کی تین علامتیں ہیں: منی کا احتلام وغیرہ کے ذریعے نکلنا، يا ناف کے نیچے بال اگ جانا یا پندرہ سال پورے ہو جانا۔ عورت کے اندر ایک چوتھی چيز بھی پائی جاتی ہے، اور وہ ہے حیض کا آنا۔
- سبکی کہتے ہیں: حدیث میں آئے ہوئے 'صبی' لفظ کے معنی غلام (بچے) کے ہيں۔ جب کہ دیگرحضرات کہتے ہيں: بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہو، تو اسے (عربی میں) 'جنین' کہا جاتا ہے۔ جب پیدا ہو جائے، تو 'صبی' کہلاتا ہے۔ شیرخوارگی کا زمانہ گزرنے کے بعد سے سات سال تک 'غلام' کہلاتا ہے۔ بعد ازاں دس سال تک 'یافع' کہلاتا ہے۔ پھر پندرہ سال تک 'حزور' کہلاتا ہے۔ اور سیوطی کے بقول قطعی بات یہ ہے کہ بچے کو ان تمام احوال میں 'صبی' کہا جائے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informed that accountability is binding on all the children of Adam except for these three:
A child till he grows up and reaches puberty.
An insane and crazy person till his mind is restored.
A sleeping person till he wakes up.
Accountability has been lifted from them, and their sinful actions are not recorded against them. However, goodness is recorded for a young boy, but not for the insane or sleeping person, because they are in the category of those who are not capable of valid worship due to the loss of consciousness.