ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں، جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، نہ اُسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58147Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58147)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ انسان جس کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں تصرف اور اس کی تنفیذ درست اور صحیح نہیں ہے۔ وہ چیز جو آدمی کے تصرف میں نہ ہو، اس کے لیے اس کا تصرف جائز اور صحیح نہیں ہے۔ یہی حال نذر کا بھی ہے۔ چنانچہ وہ نذر صحیح اور قابل نفاذ نہیں ہے، جسے مانتے وقت نذر ماننے والا اس کا اختیار نہ رکھے، حتیٰ کہ اگر وہ بعد میں اس کا مالک ہو بھی جائے، تب بھی اسے پورا کرنا ضروری نہیں ہوگا اور نہ اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ یہی معاملہ غلام آزاد کرنے کا ہے کہ آدمی جس غلام کا مالک نہ ہو، وہ اسے آزاد کر نہیں سکتا؛ کیوں کہ اس کا تصرف بجا نہیں ہے۔ نیز یہی حال طلاق کا ہے کہ آدمی کے لیے کسی اجنبی عورت کو، جو اس کی بیوی نہ ہو، طلاق دینا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ ”طلاق کا اختیار اسی کو ہے، جو پنڈلی تھامے“ (یعنی شوہر) اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اس عورت کو )طلاق دینے کا حق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔“
Explanation
In this Hadīth, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) explains that one can handle only things that he owns, and that disposing of things that one does not own is void. This rule applies to the acts mentioned in the Hadīth as follows:
1. The vow: Making a vow concerning a thing that one does not own at the time of making the vow is void. Even if one comes to own that thing later, he neither has to fulfill his vow nor offer expiation.
2. Emancipation of a slave: One cannot free a salve who is not his, because emancipation in this case in objectless.
3. Divorce: It is void if made by a man concerning a woman who is not his wife, because the right of divorce belongs exclusively to the husband who has the right to intimacy, and also because the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “One cannot divorce a woman who is not his (wife)”.