صحیح مسلم
Sahih Muslim

میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5817Sahih صحیح
عن أبي عبد الله جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال: كنت أصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الصلوات، فكانت صلاته قَصْدًا وخطبته قَصْدًا.
ابو عبد اللہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu ‘Abdullāh Jābir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) reported: I used to pray with the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and his prayer was moderate in length and his sermon was moderate in length.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5817

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ کی نماز اور خطبہ بہت زیادہ لمبا ہونے اور انتہائی مختصر ہونے کے بیچ بیچ ہوتا تھا۔ یعنی اس میں توسط اور اعتدال پایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر اور ائمہ و خطیب حضرات کے لیے خاص طور پر یہی اسوہ اور قابل اقتدا نمونہ ہے۔ اس حدیث کو دلیل بنا کر نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا اور خطبے دینے میں بہت زیادہ تیزی اپنانا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نبیﷺ کی سنت تو اعتدال اور کبھی کبھار تھوڑی طوالت پر دلالت کرتی ہے جس سے پریشانی نہ ہو۔

Explanation

The Prophet's prayer and sermon were not overly long or brief. Yet, they were moderate, being performed and given by the role model for Muslims in general and for Imāms and preachers in particular. So, no one should cite this Hadīth as evidence that the prayer and sermon may take place very quickly, for the Prophet's guidance points to moderation, and sometimes prolongation that causes no boredom.

Topics موضوعات