صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی، صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺکی…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5818Sahih صحیح
عن جابر رضي الله عنه قال: إنا كنا يوم الخندق نحفر فعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شديدة، فجاؤوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: هذه كُدْيَةٌ عَرَضَتْ في الخندق. فقال: «أنا نازل» ثم قام، وبطنه مَعْصوبٌ بحَجَرٍ، ولبثنا ثلاثة أيام لا نذوق ذواقًا، فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم المِعْوَلَ، فضرب فعاد كَثِيبًا أَهْيَلَ أو أَهْيَمَ، فقلت: يا رسول الله ائْذَنْ لي إلى البيت، فقلت لامرأتي: رأيتُ بالنبي صلى الله عليه وسلم شيئًا ما في ذلك صبرٌ فعندك شيء؟ فقالت: عندي شَعِيرٌ وعَنَاقٌ، فذبحتِ العَنَاقَ وطَحَنَتِ الشعيرُ حتى جعلنا اللحمَ في البُرْمَةِ، ثم جِئْتُ النبي صلى الله عليه وسلم والعَجِينُ قد انْكَسَرَ، والبُرْمَةُ بين الأَثَافِي قد كادت تَنْضِجُ، فقلت: طُعَيْمٌ لي فقم أنت يا رسول الله ورجل أو رجلان، قال: «كم هو»؟ فذكرت له، فقال: «كثيرٌ طيبٌ قل لها لا تَنْزِعِ البُرْمَةَ، ولا الخبز من التَّنُّورِ حتى آتي» فقال: «قوموا»، فقام المهاجرون والأنصار، فدخلت عليها فقلت: وَيْحَك قد جاء النبي صلى الله عليه وسلم والمهاجرون والأنصار ومن معهم! قالت: هل سألك؟ قلت: نعم، قال: «ادخلوا ولا تَضَاغَطُوا» فجعل يكسر الخبز، ويجعل عليه اللحم، ويُخَمِّرُ البُرْمَةَ والتَّنُّورَ إذا أخذ منه، ويقرب إلى أصحابه ثم يَنْزِعُ، فلم يزل يكسر ويَغْرِفُ حتى شَبِعُوا، وبقي منه، فقال: «كُلِي هذا وأَهْدِي، فإن الناس أصابتهم مَجَاعَةٌ».
وفي رواية قال جابر: لما حفر الخَنْدَقَ رأيت بالنبي صلى الله عليه وسلم خَمَصًا، فانْكَفَأْتُ إلى امرأتي، فقلت: هل عندك شيء؟ فإني رأيت برسول الله صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شديدًا، فأخرجت إلي جِرَابًا فيه صاع من شعير، ولنا بهيمة دَاجِنٌ فذبحتها، وطحنت الشعير، ففرغت إلى فراغي، وقَطَّعْتُهَا في بُرْمَتِهَا، ثم وَلَّيْتُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: لا تفضحني برسول الله صلى الله عليه وسلم ومن معه، فجئته فسَارَرْتُه، فقلت: يا رسول الله، ذبحنا بهيمة لنا، وطحنت صاعًا من شعير، فتعال أنت ونفر معك، فصاح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أهل الخندق: إن جابرًا قد صنع سُؤْرًا فَحَيَّهَلا بكم» فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تنزلن بُرْمَتِكُم ولا تَخْبِزَنَّ عَجِينَكُم حتى أَجِيء» فجئت وجاء النبي صلى الله عليه وسلم يقدم الناس، حتى جئت امرأتي، فقالت: بك وبك! فقلت: قد فعلت الذي قلت. فأخرجت عجينًا، فبَسَقَ فيه وبَارَكَ، ثم عمد إلى بُرْمَتِنَا فبَصَقَ وبَارَكَ، ثم قال: «ادعي خَابِزَةً فلتَخْبِزْ معك، واقْدَحِي من بُرْمَتِكُم، ولا تنزلوها» وهم ألف، فأقسم بالله لأكلوا حتى تركوه وانحرفوا، وإن بُرْمَتَنَا لتَغِطُّ كما هي، وإن عَجِينَنَا ليُخْبَزُ كما هو.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کر رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”میں اندر اترتا ہوں“۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے جب کہ اس وقت (بھوک کی شدت کی وجہ سے) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا اور ہم لوگوں نے بھی تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ آپ ﷺ نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر مارا۔ چٹان بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی۔ (یہ سارا ماجرا دیکھ کر) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجیے۔ (گھا جاکر) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم ﷺ کو اس حالت میں دیکھاہے کہ مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ کیا تمھارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟ بیوی نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے۔ پھر ہم نے گوشت کو چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا۔ نبی کریم ﷺ سے میں نے عرض کیاکہ تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے۔ آپ ﷺ تشریف لے چلیں اور دو ایک دیگر افرادکو ساتھ لے لیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے؟ جب میں نے سب کچھ بتا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ ہے۔ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔ میں ابھی آ رہا ہوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے، تو اپنی بیوی سے کہا اب کیا ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ تو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ بیوی نے پوچھا: نبی کریم ﷺ نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ ادھر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ، لیکن دیکھو، ازدحام نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپ ﷺ روٹی کا چورا کرکے اس پرگوشت ڈالنے لگے۔ جب بھی روٹی اور گوشت نکالتے، ہانڈی اور تنور دونوں کو ڈھانک دیا کرتے۔ ہانڑی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے قریب فرماتے اورنکال کر دیتے۔ اس طرح اس طرح روٹی کو توڑنے اور گوشت ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔ آخر میں آپ ﷺ نے (جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے) فرمایا: اب یہ کھانا خود تم کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو؛ کیونکہ لوگ آج کل فاقے میں مبتلا ہیں۔
ایک اور روایت میں جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی، تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ سخت بھوکے ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا: کیا تمھارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میں نے نبی کریم ﷺ کو انتہائی بھوک کی حالت میں دیکھا ہے! میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائی، جس میں ایک صاع جَو تھے۔ گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو کو چکی میں پیسا۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا، تو وہ بھی جَو پیس چکی تھی۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں کر کے ہانڈی میں رکھ دیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا (کہ بہت سے آدمی آجائیں اور کھانا کم پڑ جائے)۔ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جَو پیسے ہیں، جو ہمارے پاس تھے۔ پس آپ اپنے ساتھ چند آدمیوں کے ساتھ تشریف لے چلیں۔ (لیکن ہوا کچھ اور ہی) آپ ﷺ نے نہایت بلند آواز سے فرمایا کہ اے اہل خندق! جابر نے تمھارے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں آ نہ آجاؤں ہانڈی چولھے پر سے نہ اتارنا اور نہ آٹے کی روٹیاں پکانا شروع کرنا۔ میں اپنے گھر آیا۔ ادھر آپ ﷺ بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا، تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا، میں نے نبی ﷺ کے سامنے عرض کر دیا تھا۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور آپ ﷺ نے اس میں اپنے لعاب دہن کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کر دی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب دہن کی آمیزش کی اور برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب ایک روٹی پکانے والی کو بلاؤ۔ وہ تمھارے ہم راہ روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالتی جائے، لیکن چولھے سے ہانڈی نہ اتارنا۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے اس قدر کھایا کہ بچا بھی رہ گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے، تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی، جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir (may Allah be pleased with him) reported: While we were digging the trench, a very hard boulder became exposed. The Companions went to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and told him about it, and he said: "I will go (see it)." He stood up with a stone tied over his abdomen due to intense hunger, for we had not eaten anything for three days. He took up a spade and struck the hard rock with it, and it turned into sand. I sought his permission to go home. (After reaching it) I said to my wife: "I have seen the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in a state that I can not endure. Have you got anything in the house?" She said: "I have barley and a little goat." I slaughtered the little goat, she ground the barley, and we put the meat in the cooking pot. Then I went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) while the flour had been kneaded and the meat in the pot was nearly cooked. I said to him: "O Messenger of Allah, I have some food, will you come along with one or two Companions?" He asked: "How much is it?" I told him about the quantity, and he said: "Plenty and good. Tell your wife not to remove the pot from the hearth nor the bread from the oven until I arrive." Then he said to the Muhājirūn and the Ansār: "Let us go (to eat)." They all rose (and went with him). I went to my wife and said: "Take care, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him); the Muhajiroūn; the Ansār; and those with them are coming." She said: "Did he (the Prophet) ask you (about the quantity of food)?" I said: 'Yes.' (When they arrived) the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said to his Companions: "Enter, but do not crowd." Then he started breaking up the bread and putting meat on it. He would take from the pot and the oven, then he would cover them up, and then he would approach his Companions and hand it over to them. He would then go back and uncover the pot and the oven. He continued to break up the bread and put meat on it until all people had eaten their fill, and still some of the food remained. Then he said to my wife: "Eat from this, and gift from it, for people have been afflicted with severe hunger."
In another narration, Jābir said: "When the trench was being dug, I noticed signs of hunger on the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). I went to my wife and said to her: 'Do you have anything? I have seen signs of severe hunger on the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him).' She brought out a bag which contained a Sā‘ of barley. We had a goat which was reared at home. I slaughtered the goat, and she ground the flour in order to bake bread. I then cut the meat and put it in the cooking pot. When I was about to go back to Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) my wife said to me: 'Do not dishonor me before the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and his Companions (meaning: do not invite too many people as the food is little).' When I reached him, I said to him in a low tone: 'O Messenger of Allah, we have slaughtered a small animal and have ground a Sā‘ of barley. Please accompany me with a few of your Companions.' Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) announced in a loud voice: 'O people of the trench, Jābir has arranged a feast for you, so all of you are welcome.' Then he told me: 'Do not take the pot off the fire, nor bake the kneaded flour until I arrive.' So I went home, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came ahead of the people. My wife told me off, but I replied: 'I did exactly what you told me to do.' She brought out the kneaded flour, and Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) spat into it and invoked the blessing of Allah on it, and then he spat into the cooking pot and invoked the blessing of Allah on it. Then he said (to my wife): 'Call another woman to help bake bread with you, and take (meat) out from your cooking pot, but do not take it off the fire.' There were about one thousand guests. By Allah, all of them ate until they left the food and went off while our cooking pot was still full with meat as before and the dough continued to be baked as before."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5818

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جابر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے تفصیلی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین غزوۂ خندق کے موقع پر مدینے کے اطراف میں خندق کی کھدائی میں مصروف تھے، جو ان کے اور دشمنان اسلام کے درمیان رکاوٹ بن سکے۔ کھدائی کے دوران زمین کے ایک حصے میں سخت قسم کی چٹان کا ایک بڑا سا ٹکڑا نمودار ہوا، جس پر کلہاڑی اپنا کوئی اثر نہیں دکھا پا رہی تھی۔ صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس مشکل کا شکوہ کیا، تو آپﷺ خود خندق میں اترے، جب کہ بھوک کی شدت سے آپ نے اپنے پیٹ کو پتھر سے باندھ رکھا تھا، آپ نے کدال لی، جو کہ لوہے کا ایک اوزار ہے، جس سے پہاڑ کھودا جاتا ہے، اور اس سے چٹان پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نرم و نازک ریت میں تبدیل ہوگئی۔
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر گیا اور بیوی سے دریافت کیا کہ آیا گھر میں کھانے کی کوئی چیز موجود ہے یا نہیں؟ بیوی کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی شدید بھوک کا حال بھی بیان کیا۔ چنانچہ ان کی بیوی نے ایک چمڑے کا برتن نکالا، جس میں کچھ جَوتھی اور ان کے ہاں بکری کا ایک مادہ بچہ تھا، (بکری کے پہلے مادہ بچے کو عناق کہتے ہیں) جو گھر سے مانوس ہوچکا تھا، انھوں نے اسے ذبح کیا۔ اس دوران بیوی نے جو پیس لی اور پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔ ادھر جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور چپکے سے بتایا کہ انھوں نے آپﷺ کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے،جو آپ کے تمام ساتھیوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ہم راہ ان کے گھر کھانے پر تشریف لائیں۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے تمام اصحاب کو دعوت عام دیتے ہوئے ندا لگائی کہ اے خندق کھودنے والے ساتھیو!جابر نے کچھ کھانا تیار کیا ہے، جلدی سے ان کے گھر چلو!! پھر آپ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور گوندھا ہوا آٹا منگا کر اس میں اپنا لعاب دہن شامل فرمایا۔ اسی طرح ہانڈی میں بھی لعاب دہن کی آمیزش کی اور ان میں خیر و برکت کی دعا فرمائی۔ خیال رہے کہ یہ امر آپ ﷺ کی خصوصیات اور برکات سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ نے کھانا تیار کرنے میں جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بعض عورتوں کو طلب فرمایا۔ بالآخر سارے لوگ اس دعوت طعام میں شریک ہوئے اور سب کے سب شکم سیر ہوکر واپس لوٹ گئے اور کھانا اپنی اصل مقدار ہی میں باقی رہ گیا۔ ہانڈی میں اسی طرح ابال تھا اور گوندھے ہوئے آٹے سے اس طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔ گویا کسی طرح کی کمی واقع ہوئی ہی نہ ہو۔

Explanation

Jābir (may Allah be pleased with him) reported that while the Muslims were digging a trench around Madīnah to prevent the enemies from attacking them, they found a hard boulder that they could not break with their axes. They informed the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) about the situation. He himself went down the trench, with a stone tied to his stomach out of severe hunger. He took the axe and stroke the boulder once and it turned into sand.
Jābir went to his house and asked his wife if they had some food. He related to her in what state of hunger the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was. She pulled out a bag of barely and they slaughtered a little goat which they had. She ground the barely and put the meat in a stony pot. Jābir then went and secretly told the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) that he had made some food that would not be enough for everybody, and he invited the Prophet to come with some of his Companions. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) however, called out everybody who was working on the trench to come and eat. Afterwards, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) went to Jābir's house and asked for the dough, which he spat in, as well as in the pot of meat, and he supplicated Allah to bless that food. This is one of his exclusive features. He asked them to bring another baker to help Jābir's wife in making the food. Everybody (who was working) came and ate (to their fill) and then left. Surprisingly, the food that they had remained as if it had not been touched.

Topics موضوعات