میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #58188Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Musnad Ahmad (HadeethEnc 58188)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that the person most deserving of dutifulness, kindness, good treatment, pleasant companionship, and maintenance of ties with is the mother. He emphasized the mother’s right over others by repeating it three times to highlight her superiority over all people without exception. Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) said, clarifying who comes next to her in terms of dutifulness: Then the father, then the next in nearness and so on from among the relatives, and the closer they are, the more deserving they are of maintaining ties than those who are farther away.