سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Musnad Ahmad

میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری…

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58188Hasan حسن
عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قلتُ يا رسول الله: مَن أَبَرّ؟ قال: "أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أَباك، ثم الأقربَ، فالأقربَ".
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Bahz ibn Hakīm reported from his father from his grandfather that he said: I said: O Messenger of Allah, to whom should I be dutiful? he said: "Your mother, then your mother, then your mother, then your father, then the next in nearness and so on."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58188

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarified that the person most deserving of dutifulness, kindness, good treatment, pleasant companionship, and maintenance of ties with is the mother. He emphasized the mother’s right over others by repeating it three times to highlight her superiority over all people without exception. Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) said, clarifying who comes next to her in terms of dutifulness: Then the father, then the next in nearness and so on from among the relatives, and the closer they are, the more deserving they are of maintaining ties than those who are farther away.

Topics موضوعات