سنن ابو داؤد · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad

تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے۔

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58189Hasan حسن
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وِعاء، وثَدْيِي له سِقاء، وحِجْري له حِواء، وإن أباه طَلَّقَني، وأراد أنْ يَنْتَزِعَه مِني، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أنتِ أحقُّ به ما لم تَنكحي».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، اور میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ، اور میری گود اس کے لیے جھولا ہے، اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr reported that a woman said: "O Messenger of Allah, for this son of mine, my womb was a vessel, my breast was a watering pot, and my lap was a holder, yet his father has divorced me and wants to take him away from me." The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: 'You are more entitled to him (the child's custody) as long as you do not get married.''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58189

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے شکایت کی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی، اور اس نے ارادہ کیا کہ اس کے لڑکے کو اس سے چھین لے، اس عورت نے کچھ ایسے اوصاف بیان کیے تاکہ وہ بچہ اس کے پاس رہ سکے، چنانچہ اس نےکہا کہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لئے برتن تھا جب وہ پیٹ کا بچہ تھا، اور اس کی چھاتی اس کی پیدائش کے بعد اس کے لیے مشکیزہ، اوراس کی گود جس جگہ اسے سمیٹ کر رکھتی تھی اس کے لیے جھولا تھا، چنانچہ نبیﷺ نے اس کی ان باتوں کا اقرار کیا، اور اس سے کہا ’’ تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے،،۔اور جب تو کسی سے نکاح کرلے گی تو تمہارا حق اس پر نہیں رہے گا، بلکہ اس کا باپ اس کا زیادہ حق دار ہوگا،،۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت جب شادی کر لے گی اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہے گا تو ایسی صورت میں اس نئے شوہر کے زیر پرورش ہو جائے گا، چنانچہ اس پر احسان کرے گا، جس کی وجہ سے یہ بچہ اس سے اپنے باپ کے مقابلے زیادہ وابستہ ہو جائے گا، اور بسا اوقات دوسری خرابیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

Explanation

In this Hadīth, a woman complained to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) that her had husband divorced her and wanted to take her son from her. The woman justified her right to keep her son with her with the facts that her womb was a vessel for him when he was a fetus, her breasts nourished him when he was a baby, and her lap was a protective place for him. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) approved the woman's description and told her that she was more entitled to the child's custody as long as she did not marry. If she got married, the father would be more entitled to the custody of the child. The reason for this is that when a woman gets married while keeping her son with her, her son would be under the guardianship of a new husband, who might keep reminding the child of his favors upon him, or the child might feel more attached to him than to his father, etc. It could also lead to other bad consequences.

Topics موضوعات