سنن ابو داؤد · سنن نسائی · سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Sunan an-Nasa'i · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
58252Sahih صحیح
عن صفوان بن أمية، قال: كنت نائما في المسجد عليَّ خَمِيْصَةٌ لي ثمن ثلاثين درهما، فجاء رجل فاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأُخِذَ الرجل، فَأُتِيَ به رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَأَمَرَ به لِيُقْطَعَ، قال: فأتَيْتُهُ، فقُلتُ: أَتَقْطَعُهُ من أجل ثلاثين درهما، أنا أبيعه وأُنْسِئُهُ ثمنها؟ قال: «فَهَلَّا كان هذا قبل أن تأتيني به».
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ اسی بیچ ایک آدمی آیا اور اسے جھپٹا مار کر لے اڑا۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر کیا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ وہ کہتے ہیں: تب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : کیا آپ محض تیس درہم کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں اسے وہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "پھر اسے میرے سامنے لانے سے پہلے ہی تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Safwān ibn Umayyah (may Allah be pleased with him) reported: I was sleeping in the mosque while covered by a Khamīsah cloak of mine whose price was thirty dirhams. A man came and snatched it away from me. The man was seized and brought to the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) who ordered that his hand should be cut off. I came to him and said: "Will you cut off his hand for the sake of only thirty dirhams? I will sell it to him on credit." He said: "Why did you not say this before bringing him to me?"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #58252

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اسی بیچ ایک چور آیا اور سے جھپٹا مار کر لے بھاگا۔ پھر چور کو پکڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا، تاکہ اس پر چوری کی حد جاری کی جا سکے۔ لیکن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس پر رحم آ گیا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ میری اس چادر کی وجہ سے کاٹ دیں گے، جس کی قیمت محض تیس درہم ہے؟ میں اسے یہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں اور قیمت وہ اپنی حالت بہتر ہونے پر ادا کر دے گا!! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم نے اسے میرے پاس لائے جانے سے پہلے ہی معاف کیوں نہ کر دیا؟ کیونکہ حدود کے معاملے جب حاکم تک پہنچ جائیں، تو معاف کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔

Explanation

Safwān ibn Umayyah (may Allah be pleased with him) was sleeping in the mosque covered by his checked cloak. A thief swiftly snatched that cloak away, but he was caught and brought to the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) to be punished for theft. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered that the hand of the thief should be cut off. It seems that Sawfān,(may Allah be pleased with him) felt sympathy for the thief, so he said to the Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him): "Will you cut off his hand for the sake of only thirty dirhams?" Then he suggested to sell the cloak to the thief on credit and give him time until he can pay its price. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said that this pardon should have been made before bringing the thief to him, because pardon is void if it is made after any of the prescribed corporal punishments is brought to the judge or ruler.

Topics موضوعات