رسول اللہ ﷺ نے تجارتی قافلوں سے آگے جا کر ملنے اور شہری کا دیہاتی کی طرف سے بیع کرنے سے منع فرمایا
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5847Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5847)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ حرام بیع کی کچھ اقسام سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوںکہ اس میں بائع و مشتری یا ان کے علاوہ کسی اور کو نقصان ہوتا ہے۔
اول: اشیا خوردنی اور جانور وغیرہ پر مشتمل سامانِ تجارت لے کر (بیرون شہر سے) آنے والے لوگوں سے جا ملنا ممنوع ہے؛ بایں طور کہ آدمی ان کے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاس جا کر ان سے سامان تجارت خرید لے۔ اس میں امکان ہے کہ ان کی قیمتوں سے عدم واقفیت کی بنا پر وہ ان سے دھوکہ کرلے اور انھیں ان کے باقی رزق سے محروم کر دے، جس کے لیے انھوں نے اتنی مشقت اٹھائی، صحراؤں اور جنگلات کو عبور کیا اور خطرات برداشت کیے۔ یوں وہ ان لوگوں کے لیے لقمۂ تر بن جائے، جنھوں نے اس کے لیے کچھ بھی کاوش نہیں کی۔
دوم: کوئی دیہاتی یا کسی بستی کا باشندہ شہر میں اپنا سامان تجارت لے کر آئے، تاکہ اسے اس دن کی قیمت پر یا پھر کسی ایسے بھاؤ پر بیچ کر واپس لوٹ جائے، جس کی اسے ضرورت ہو یا جو اس کے لیے کافی ہو۔ ایسے میں اس کے پاس کوئی شہری شخص آ کر کہے کہ اس سامان کو میرے پاس رکھ دو، تا کہ اسے میں تھوڑا تھوڑا کر کے زیادہ دام پر بیچ دوں۔ ایسا کرنے سےشہر کے باشندوں کو نقصان ہوتا ہے۔
چنانچہ شریعت نے شہر میں آنے والے اجنبی فروخت کنندہ اور شہر کے باشندوں دونوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade certain types of transactions because they negatively impact the parties involved. 1. It is forbidden to go to meet people arriving with merchandise, in order to buy their goods before they reach the market. If those arriving do not know the market price, the transaction will be unfair to them as they could lose the real amount that they had struggled to earn. The real value of their commodity will be an easy gain for those who had not worked for it. 2. It is forbidden for a townsman to offer to keep the merchandise of a man coming from the desert to sell his wares in the town at the market value of the day and return, and sell it when prices go up. This transaction is forbidden due to the harm done to the townspeople. The laws of Islam thus protect the rights of both the unknown seller and the townspeople.