صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو خشک کھجور کے بدلے میں ناپ کر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5848Sahih صحیح
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المُزَابَنَةِ: أن يبيع ثَمَرَ حَائِطِهِ إن كان نَخْلًا: بتَمْرٍ كَيْلًا، وإن كان كَرْمًا: أن يبيعه بزبيب كَيْلًا، أو كان زَرْعًا: أن يبيعه بكَيْلِ طعام، نهى عن ذلك كله».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’بیعِ مزابنہ‘‘ سے منع فرمایا، یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو خشک کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ ﷺ نے ان تمام قسم کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade the Muzābanah sale: that is to sell fruits in one's garden, if it is palm trees, for dates by dry measure; and if it is a vineyard, to sell for raisins by dry measure; and if it is any crop to sell for a dry measure of its food. He forbade all such transactions.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5848

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے ’بیع مزابنہ‘ سے منع فرمایا، بیع مزابنہ سے مراد معلوم مقدار والی شے کی مجہول مقدار والی شے سے فروخت ہے۔ اس کی ممانعت اس لیے ہے کیونکہ اس میں ضرر ہوتا ہے اور اس میں دونوں فروخت کردہ اشیاء کی مقدار میں جہالت ہوتی ہے جو ربا کا سبب بنتی ہے۔اس کی کئی مثالیں دی گئی ہیں جو اس کی وضاحت کرتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے پھل کو اگر وہ کھجور ہو تو اسے ٹوٹی ہوئی خشک کھجور کے عوض میں بیچ دے اور اگر انگور ہو تو اسے ناپ کر کشمش کے بدلے بیچ دے اور اگر کھیتی ہو تو اسے ناپ کر اسی جنس کی خوراک سے بیچ دے۔ آپ ﷺ نے ان تمام قسم کی بیوع کو ان میں پوشیدہ مفاسد اور نقصانات کی وجہ سے منع فرمایا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade the Muzābanah sale, which is to sell something definite for an indefinite amount of its kinds because of the harms this transaction involves, and also because of the uncertainty of the correspondence of the two commodities, which leads to usury. Examples were given to clarify and explain it: to sell fruits in one's garden, if it is a palm garden, for dates by dry measure; and if it is a vineyard, to sell for raisins by dry measure; and if it is any crop to sell for a dry measure of the food of its kind. He forbade all such transactions because of the harm and detriment it involves.

Topics موضوعات