رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور غیر جامع دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5886Sunan Abi Dawud & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5886)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسی جامع دعائيں پسند فرماتے تھے، جو دنیا وآخرت کی بھلائيوں پر مشتمل ہوں، کم الفاظ میں زیادہ معانی کو سمیٹے ہوئے ہوں، ان کے اندر اللہ کی تعریف اور نیک اغراض ومقاصد ہوں۔ جن دعاؤں کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں، ان سے آپ گریز کرتے تھے۔
حدیث کے فوائد
- دعا خیر کے معانی پر مشتمل مختصر مگر جامع الفاظ کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔ اس میں تکلف اور تعمق سے کام لینا مکروہ ہے۔ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے خلاف بھی ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی خصوصی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔
- کوشش یہ ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، چاہے لمبی اور زیادہ الفاظ والی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تمام دعائيں جامع دعاؤں کے ضمن میں آتی ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) preferred supplications that encompassed the good of this world and the Hereafter, with few words but deep meanings, containing praise of Allah Almighty and noble purposes, and he would leave aside anything else.