صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
5887Sahih صحیح
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ».
ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him and his father) reported that the Prophet (ﷺ) said: "Give the prescribed shares (of inheritance) to those who are entitled to them, and whatever remains goes to the nearest male relative."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #5887

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ میت کا ترکہ تقسیم کرنے والوں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ انہیں اس کے حق داروں میں منصفانہ طریقے سے اور شریعت کی روشنی میں اللہ کی منشا کے عین مطابق تقسیم کریں۔ چنانچہ وہ ورثا جن کے حصے اللہ کی کتاب کی رو سے معین ہیں، انہیں ان کے حصے دیے جائیں گے۔ وہ حصے یہ ہیں: دو تہائی، ایک تہائی، چھٹا حصہ، آدھا، چوتھائی اور آٹھواں حصہ۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اسے میت کے قریبی مرد رشتہ داروں کو دے دیا جائے گا، جنہیں عصبہ کہا جاتاہے۔

حدیث کے فوائد

  • یہ حدیث ترکہ کی تقسیم کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • ترکہ کی تقسیم کا آغاز مقررہ حصے والوں سے ہوگا۔
  • مقررہ حصوں کے بعد جو بچ جائے وہ عصبہ کا حق ہے۔
  • اس میں بھی زیادہ قریبی رشتے دار کو مقدم رکھا جائے گا۔ کوئی دور کا رشتے دار جیسے چچا، قریبی رشتے دار جیسے باپ کے ہوتے ہوئے عصبہ کی حیثیت سے وارث نہيں بنے گا۔
  • جب مقررہ حصے والوں کو دینے کے بعد مال ختم ہو جائے اور کچھ نہ بچے، تو عصبہ کو کچھ نہيں ملے گا۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) commands those who are in charge of dividing the inheritance to distribute it fairly among its rightful beneficiaries, according to the Shariah rules, as Allah Almighty willed. Those who are entitled to prescribed shares of the inheritance should be given their shares that are set for them in the Qur’an, which are: two-thirds, one-third, one-sixth, one-half, one-quarter, and one-eighth. Whatever remains after that should be given to the closest male relatives, who are called ‘Asabah (male relatives by agnation).

Topics موضوعات