نبی ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا، اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا اور…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5917Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5917)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے خرید و فروخت کی کچھ انواع سے منع فرمایا، جن کا تعلق پھلوں کے ساتھ ہے۔ کیوںکہ اس سے ایک فریق کو یا دونوں فریق کو نقصان ہوتا ہے۔ ان صورتوں میں سے کچھ یہ ہیں: مخابرہ، اس کے معنی ہیں: زمین کو، اس کے کسی معین حصے کی پیداوار کے بدلے میں کرایے پر دینا نہ کہ اوسط کے حساب سے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بالیوں میں موجود گیہوں کی اس گیہوں کے بدلے میں بیع سے منع فرمایا ہے، جسے بھوسہ سے الگ کر لیا گیا ہو۔ اسی طرح آپ ﷺ نے درختوں پر لگی کھجور کو اس کے بقدر ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا اور پھل کے پختہ ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ تاہم آپ ﷺ نے بعدازاں تازہ کھجور کو بیچنے کی رخصت دے دی جب کہ اس کا تخمینہ لگاکر اس کی مقدار معلوم کر لی جائے اور اسے اسی کے برابر پھل کے ساتھ فروخت کیا جائے۔ ”الخرص“ کے معنی ہیں: پھل کی مقدار کو اندازے اور غالب گمان کے ذریعےجاننا بشرطےکہ یہ بیع پانچ یا پانچ وسق سے کم میں ہو۔ کیوںکہ دیگر احادیث میں ایسے ہی آیا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade some of the sales of crops because of the harm they incur on one or both sides of the transaction (buyer and seller). These sales include Mukhābarah, which is to lease out land in return for the produce of a specified part of the land; Muhāqalah, which is to sell wheat in the ear in return for husked wheat (wheat separated from the chaff); Muzābanah, which is to sell dates on palm trees in return for dates. He also forbade selling fruit until its condition becomes clear that it is free from blight and good for eating, but he made an exception for ‘Araya (date-palms), i.e. ripe dates after their value is estimated, in return for the same value of fruit.