تمہیں معلوم ہے، مجزز (ایک قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو (چادر اوڑھے لیٹے ہوئے)…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي لفظ: «كان مجزِّزٌ قائفًا».
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5916Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 5916)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
زید بن حارثہ کا رنگ گورا تھا جب کہ ان کے بیٹے اسامہ گندمی رنگ کے تھے۔ لوگ ان کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں شک کیا کرتے تھے اور اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت کی صحت میں باتیں کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو بہت اذیت پہنچتی تھی۔
ایک دفعہ مجزز مدلجی کا جو قیافہ شناس تھا ان کے قریب سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے اپنے سروں کو ایک چادر سے ڈھانپ رکھا تھا لیکن ان کے پاؤں باہر نظر آرہے تھے۔
اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں کیونکہ اسے ان کے مابین مشابہت نظر آئی تھی۔
نبی ﷺ اس قیافہ شناس کی بات کو سن رہے تھے۔ آپ ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس حال میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے کہ آپ کا چہرہ اس بات پر خوشی و اطمئنان کی وجہ سے دمک رہا تھا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت درست ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے ان لوگوں کی باتوں کا رد ہو گیا تھا جو بلا کچھ جانے لوگوں کی عزتوں میں اپنی زبانیں چلاتے ہیں۔
Explanation
Zayd ibn Hārithah was white, and his son Usāmah was black, and people used to doubt their relation to one another due to their difference in color, suspecting the validity of Usāmah’s attribution to his father. This used to annoy the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). Once, Mujazziz al-Mudliji, a lineage tracker, passed by them (Zayd and Usāmah), while their heads were covered with a piece of velvet and their legs were uncovered. On that, Mujazziz said: “Indeed, these feet are related to one another,” due to the resemblance that he saw between them. His speech was heard by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who was extremely happy on hearing that, to the extent that he entered upon ‘Ā'ishah with his face glittering with joy and rejoice for being reassured of the validity of Usāmah’s attribution to his father's lineage; and for the rebuttal of the speech of those who unknowingly set their tongues loose regarding the honor of others.