وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے بدشکونی لی, یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کہانت کی…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- Not named by the sourceOriginal wording: رواه البزار
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5981(HadeethEnc 5981)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ مخصوص کام کے بارے میں فرمایا کہ میری امت کے جو لوگ ایسے کام کریں گے وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ یہ کام کچھ اس طرح ہیں :
1- "ایسا شخص جس نے بدشگونی لی یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی"۔ اس کى اصل یہ ہے کہ: کسی بھى کام جیسے سفراور تجارت وغیرہ کے شروع کرتے وقت پرندے کو اڑایا جائے۔ پرندہ اگر دائیں اڑے، تو نیک شگون لے اور جس کام کا ارادہ ہو، اسے کرگذرے۔ لیکن اگر بائیں اڑے، تو بد شگونی لے اور جو کام کرنا ہو، اسے چھوڑ دے۔ یہ کام نہ تو خود کرنا جائز ہے اور نہ کسی سے کروانا جائز ہے۔ یاد رہے کہ اس ممانعت کے اندر کسی بھی چیز سے لی جانے والی بد شگونی داخل ہے۔ چاہے اس چیز کا تعلق سننے سے ہو یا دیکھنے سے۔ وہ چیز پرندہ ہو، جانور ہو، جسمانی معذوری والے لوگ ہوں، عدد ہوں یا دن وغیرہ۔
2- "ایسا شخص جس نے خود کہانت کی یا کسی سے کروائی"۔ پس جس نے ستاروں وغیرہ کا سہارا لے کر غیب کی بات جاننے کا دعوی کیا یا پھر کسی ایسے شخص کے پاس گیا، جو غیب کی بات جاننے کا دعوی کرتا ہو اور اس کی بات کو سچ بھی مانا، اس نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنے والی شریعت کا انکار کیا۔
3- "ایسا شخص جس نے جادو کیا یا جادو کروایا"۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے، جس نے کسی کو فائدہ پہنچانے یا کسی کا نقصان کرنے کے مقصد سے جادو کیا یا جادو کروایا یا ناجائز منتر پڑھ کر دھاگہ وغیرہ پر پھونک ماری اور گرہ لگائی۔
حدیث کے فوائد
- اللہ پر بھروسہ کرنے اور اس کی قضا و قدر پر ایمان رکھنے کا وجوب اور بدشگونی، جادو، کہانت کرنے یا کسی سے کرانے کی حرمت۔
- غیب کی بات جاننے کا دعوی کرنا شرک اور توحید کے منافی ہے۔
- کاہنوں کی تصدیق کرنا اور ان کے پاس جانا حرام ہے اور اس حکم میں ہاتھ دیکھنا، پیالی پڑھنا اور ستاروں کی گردشوں وغیرہ کے ذریعے غیب کی بات بتانا بھی شامل ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave a warning to those members of his Ummah who practices certain acts by saying: "He is not one of us." Those acts include:
First: "Who seeks omens, or has it done for him." Seeking omens is tatyyur in Arabic, and it comes from the word 'tayr' (bird). They used to release birds before taking any course of action. If the bird flew to the right, they would feel optimistic and go ahead with their plan, but if it flew to the left, they would feel pessimistic and abandon their plan. It is not permissible for a person to do this by himself or appoint someone to do it on his behalf. Falling under this is being pessimistic due to anything heard or seen, including birds, animals, people with deformities, specific numbers or days, etc.
Second: "Who practices soothsaying, or has it done for him." Whoever claims to know the unseen, through the stars or anything else, or comes to someone who claims knowledge of the unseen, like a soothsayer or diviner, and believes what he says, based on his claim to know the unseen, has thus disbelieved in what was revealed to Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him).
Third: "Who practices sorcery, or has it done for him." Such is a person who performs magic by himself or asks another person to perform magic for him to bring benefit or cause harm to someone, or he ties a knot by connecting a string and practicing magic on it by reciting prohibited talismans and blowing on it.