”جو کسی عرّاف (غیبی امور کے جاننے کا دعوی رکھنے والے) کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے متعلق پوچھے، تو چالیس…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5986Sahih Muslim (HadeethEnc 5986)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم عراف، جو ایک ایسا لفظ ہے کہ اس کے اندر کاہن، نجومی اور رمال وغیرہ ایسے تمام لوگ شامل ہيں، جو کچھ مقدمات کے سہارے غیب کی بات جاننے کی کوشش کرتے ہيں، کے پاس جانے سے خبردار کر رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اس طرح کے لوگوں سے غیب کی بات پوچھنے کے نتیجے میں انسان چالیس دن کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسا دراصل اس بڑے گناہ کی سزا کے طور پر کیا گیا ہے۔
حدیث کے فوائد
- کہانت کرنا، کاہنوں کے پاس جانا اور ان سے غیب کی باتیں پوچھنا حرام ہے۔
- کبھی کبھی انسان اپنے گناہوں کے نتیجے میں اپنے نیک کاموں کے ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
- اس حدیث کے اندر ستاروں کی گردشوں کا مطالعہ کرکے اور ہتھیلی اور پیالی پڑھ کر غیب کی بات بتانا داخل ہے، چاہے محض جانکاری کے طور پر ہی کیوں نہ۔ کیوں کہ یہ ساری باتیں کہانت اور غیبی علم کا دعوی کرنے میں داخل ہے۔
- جب غیب کی بات بتانے والے کے پاس جانے کی سزا اتنی بڑی ہے، تو خود غیب کی بات بتانے والے کو کتنی بڑی سزا مل سکتی ہے؟
- چالیس دن کی نمازیں ادا ہو جائیں گی اور اس کی قضا واجب نہیں ہوگی، لیکن ان کا ثواب نہیں ملے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) warns us against going to soothsayers – a general term also applying to fortune tellers, astrologers, geomancers, and others who use certain things as means for knowing the unseen – and says that if a person merely asks a soothsayer about anything of the unseen, Allah will deny him the reward for his prayers for forty days, as a punishment for this great sin and misdeed.