”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #5989Sunan Abi Dawud & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 5989)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے ستاروں اور برجوں، ان کی حرکات، ان کے داخل ہونے اور نکلنے کی کیفیت پر غور کرکے روئے زمین پر مستقبل میں واقع ہونے والے حادثات، جیسے زندگی، موت اور بیماری وغیرہ، پر اثر پڑنے کا علم حاصل کیا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ انسان یہ علم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ جادو کا اتنا زیادہ علم حاصل کرتا جائے گا۔
حدیث کے فوائد
- ستاروں کے احوال کو دیکھ کر پیشین گوئی کرنا حرام ہے، کیوں کہ یہ غیبی علم کا دعوے میں شامل ہے۔
- ستاروں کے احوال دیکھ کر پیشین گوئی کرنا ایک طرح کا جادو ہے، جو کہ توحید کے منافی ہے۔ جب کہ جہت، قبلہ اور موسم اور مہینہ کے داخل ہونے کی جان کاری حاصل کرنے کے لیے ستاروں کو دیکھنا مباح ہے۔
- انسان علم نجوم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ اتنا زیادہ جادو کا علم حاصل کرتا جائے گا۔
- اللہ نے اپنی کتاب میں ستاروں کے تین فوائد بیان کیے ہيں: یہ آسمان کی زینت ہیں، یہ علامتیں ہیں جن سے رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ ہيں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out that if a person acquires knowledge of the stars and planets and uses their movements and entry and exit as guidance for earthly events, like the birth of someone or his demise or illness, or any other future incident, he has thus learned part of magic, and the more he acquires of it, the more magic he learns.