کیا میں تمھیں جو کچھ تم نے مانگا ہے، اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا کہ جب…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6076Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6076)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد بزرگوار کو چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں پڑے ہوئے چھالے کی شکایت کی۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ قیدی آئے، تو ان میں ایک قیدی مانگنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئيں، تاکہ گھر کے کام کاج میں آسانی ہو۔ گھر میں آپ نہيں تھے، اس لیے جو کہنا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ کر واپس آ گئیں۔ آپ تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خادم کی گزارش کے ساتھ حاضر ہوئی تھیں۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہما کے گھر پہنچ گئے۔ اس وقت دونوں بستر میں تھے اور سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ آپ دونوں کے درمیان اس طرح بیٹھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ میں محسوس کی۔ بعد ازاں فرمایا: تم دونوں نے مجھ سے خادم دینے کا جو مطالبہ کیا ہے، کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ دونوں نے عرض کیا : ضرور بتائيں۔ تب آپ نے فرمایا: جب تم دونوں رات میں سونے کے لیے بستر پر چلے جاؤ، تو 34 بار اللہ اکبر کہو۔ 33 بار سبحان اللہ کہو۔ 33 بار الحمد للہ کہو۔ یہ ذکر تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔
حدیث کے فوائد
- اس مبارک ذکر کا پابندی سے اہتمام کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس وصیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ صفین جنگ کی رات کو بھی نہيں۔
- اس ذکر کو رات کو سوتے وقت ہی پڑھا جائے گا۔ کیوں کہ صحیح مسلم میں معاذ عن شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں : "جب تم رات کو بستر پر چلے جاؤ۔"
- جب کوئی مسلمان اس ذکر کو رات کے پہلے حصے میں بولنا بھول جائے اور آخری حصے میں اسے یاد آ جائے، تو اس وقت کہہ لینے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ کیوں کہ اس حدیث کے راوی علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ صفین کی رات اسےاول شب کہنا بھول گئے، تو یاد آنے پر صبح سے پہلے کہہ لیا۔
- مہلب کہتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایک انسان خود اپنی زندگی میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کے طرز عمل پر کاربند رہتا ہو، اسی طرح اپنے اہل خانہ کو بھی اس کی تحریک دے، اگر ان کے اندر اس کی قدرت ہو۔
- ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: اس ذکر کا اہتمام کر لینے کے بعد انسان کے لیے زیادہ کام کرنا مشکل نہيں رہ جاتا اور اسے اس کا نقصان بھی نہیں ہوتا۔ تھکاوٹ ہو تب بھی۔
- عینی کہتے ہیں: اس ذکر کے اہتمام کے خادم سے بہتر ہونے کا ایک پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ ذکر کا تعلق آخرت سے ہے اور غلام کا تعلق دنیا سے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آخرت دنیا سے زيادہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ ان اذکار کے نتیجے میں ان کے اندر کام کرنے کی ایسی طاقت پیدا ہو جائے کہ وہ خادم سے زیادہ کام کر سکیں۔
Explanation
Fātimah (may Allah be pleased with her), the Prophet's daughter, complained about the effect of the grinding-stone on her hand. When captives were brought to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), she rushed to ask him for a servant from these captives so as to do the household chores on her behalf. She, however, did not find him and found ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her). She told her about the matter. When he (may Allah's peace and blessings be upon him) came, ‘Ā’ishah told him that Fātimah had come to ask him for a servant. So, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came to Fātimah and ‘Ali (may Allah be pleased with both of them) at their house while they were in bed, preparing to sleep. He sat down between them, and ‘Ali (may Allah be pleased with him) felt the coldness of the Prophet's feet on his belly. He said: Shall I teach you something better than what you have asked me for giving you a servant? They replied in the affirmative. So, he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: When you go to bed for sleep in the night, say Takbīr thirty-four times: Allāhu Akbar. Glorify Allah thirty-three times, saying: Subhān Allah. And praise Allah thirty-three times, saying: Alhamdulillāh. This Dhikr is better for you than having a servant.