جامع ترمذی · مسند احمد
Jami' at-Tirmidhi · Musnad Ahmad

اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6332Sahih صحیح
عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: احتَبسَ عنَّا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة من صلاة الصُّبح حتى كِدْنا نتراءى عينَ الشمس، فخرج سريعًا فثوَّب بالصلاة، فصلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتجوَّز في صلاته، فلمَّا سلَّم دعا بصوته فقال لنا: «على مَصَافِّكم كما أنتم» ثم انْفَتَل إلينا فقال: «أمَا إني سأحدِّثكم ما حبسني عنكم الغداة: إني قمتُ من الليل فتوضَّأت فصلَّيتُ ما قُدِّر لي فنعَستُ في صلاتي فاستثقلتُ، فإذا أنا بربي تبارك وتعالى في أحسن صورة، فقال: يا محمد قلت: لبَّيك ربِّ، قال: فيمَ يختصم الملأُ الأعلى؟ قلتُ: لا أدري ربِّ، قالها ثلاثا قال: «فرأيتُه وضع كفِّه بين كتفيَّ حتى وجدتُ بَردَ أنامله بين ثدييَّ، فتجلَّى لي كلُّ شيء وعرفتُ، فقال: يا محمد، قلتُ: لبَّيك ربِّ، قال: فيمَ يختصم الملأُ الأعلى؟ قلتُ: في الكَفَّارات، قال: ما هن؟ قلتُ: مشيُ الأقدام إلى الجماعات، والجلوسُ في المساجد بعد الصلوات، وإسباغُ الوضوء في المكروهات، قال: ثم فيمَ؟ قلت: إطعامُ الطعام، ولِينُ الكلام، والصلاةُ بالليل والناس نِيام. قال: سَلْ. قلت: اللهم إني أسألك فِعْلَ الخيرات، وتَرْكَ المنكرات، وحبَّ المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردتَ فتنةً في قوم فتوفَّني غير مفتون، وأسألُك حبَّك وحبَّ مَن يحبُّك، وحبَّ عَمَلٍ يُقرِّب إلى حبِّك»، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنها حقٌّ فادرسوها ثم تعلَّموها».
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں ہمارے پاس تشريف لانے ميں اتنی تاخير کردی کہ قریب تھا کہ سورج کی ٹکیہ کو ہم دیکھ لیتے۔ پھر آپ ﷺ تیزی سے باہر تشریف لائے اور نماز کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے مختصر نماز پڑھائی۔ جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو خود پکار کر ہم سے فرمایا: تم جیسے اپنی صفوں میں بیٹھے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو۔ پھر آپ ﷺ ہماری طرف مڑے اور فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے میں آج تمہارے پاس آنے سے رکا رہا۔ میں رات کو اٹھا اور وضو کرکے جس قدر میرے نصیب میں تھی میں نے نماز پڑھی۔ پھر میں نماز میں ہی اونگھنے لگا یہاں تک کہ گہری نیند سو گیا۔اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے رب تبارک و تعالی کے پاس ہوں جو بہترین صورت میں ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: ملأ اعلی (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں تو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالی نے یہ بات تین دفعہ پوچھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ مجھے اپنے سینے پر اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ تو میرے لیے ہر شے واضح ہو گئی اور میں جان گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: ملأِ اعلی کا کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ: (گناہوں کا ) کفارہ بننے والے اعمال میں۔ فرمایا: کفارہ بننے والے اعمال کیا ہیں؟ میں نے جواب دیا: باجماعت نمازوں کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھنا، ناگوار حالات ميں کامل اور اچھے طریقے سے وضو کرنا۔ پوچھا: اور کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: کھانا کھلانے، نرم گفتاری اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو اس وقت نماز پڑھنے کے متعلق۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا: مانگو۔ میں نے کہا: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حق ہے، اس پر غور کرو اور اسے سیکھو۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) reported: One morning, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) stayed home and did not come out to offer the Fajr prayer until the sun almost rose. Then he came out in a hurry and led us in the prayer, which he performed quicker than at his usual pace. After the prayer was over, he asked us to remain in our places, and then he said to us: "I will tell you what caused me to be late. I got up at night to pray. I made ablution and then prayed as much as Allah willed me to pray. I dozed off while praying and fell into a deep sleep, whereupon I saw My Lord, Glorified and Exalted, in the best appearance. He said to me: 'O Muhammad.' I said: 'Here I am, my Lord.' He said: 'Do you know what the higher assembly (of angels) argue about?' I said: 'My Lord, I do not know.' He asked me three times, and then I saw Him put His Palm between my shoulders until I felt the coolness of His fingertips between my breasts. Consequently, everything became clear to me and I had knowledge. He asked me: 'O Muhammad.' I said: 'Here I am, my Lord.' He said: 'Do you know what the higher assembly (of angels) argue about?' I said: 'About acts of expiation (for sins).' He said: 'What are they?' I said: 'Walking to join congregational prayers, sitting in the mosques after prayers, and performing ablution properly when it is difficult (to do so).' He asked me: 'Then about what else?' I said: 'Feeding people, lenient speech, and offering prayer at night while the people are asleep.' He said: 'Ask Me anything.' I said: 'O Allah, I ask You to help me do good deeds and abstain from evil ones, to grant me the love of the poor and needy, and to forgive me and have mercy on me. And if it is Your Will that You put some people to trial (regarding their faith), then make me die without being put to that trial. I ask You to grant me Your Love, the love of those who love You, and the love of deeds that bring me closer to Your Love." The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) then said: "These words are true, so study them and then learn them."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
جامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6332

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک دن نماز فجر کے لیے نبی کريم ﷺ نے نکلنے میں تاخير کردی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ تیزی کے ساتھ باہر تشریف لائے اور اقامتِ نماز کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں مختصر نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ وہ صفوں میں اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں بتلايا کہ آپ ﷺ کو کس وجہ سے نماز فجر میں تاخیر ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھے، وضو فرمایا اور جتنی رکعتیں اللہ کو منظور تھیں اتنی ادا کیں اور پھر اپنی نماز کے دوران ہی سو گئے۔ خواب میں آپ ﷺ نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ مقرب فرشتے کس شے کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں تو کچھ نہیں جانتا۔ یہ سوال و جواب تین دفعہ ہوا۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین رکھ دی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اپنے سینے میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ نبی ﷺ نے جن اوصاف سے اپنے رب عز و جل کو متصف کیا ہے وہ حق اورسچ ہيں اور اللہ تعالی نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو متصف کیا ہے ان پر جوں کا توں بغیر کسی تمثیل کے ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ جسے اسے سمجھنے میں کچھ اشکال یا اشتباہ ہو تو وہ ویسے ہی کہہ دے جیسے وہ پختہ علم والے لوگ کہتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں بتایا کہ ان کے سامنے جب کوئی مشتبہ بات آتی ہے تو وہ کہتے ہیں: (آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا۔) ترجمہ: ’’ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ اس شخص کو چاہیے کہ جس بات کا اسے علم نہ ہو اس کے درپے نہ ہو، کیونکہ اس سے اس کے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مومن لوگ تو جب بھی اس طرح کی بات سنتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ایسا اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتلایا ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا ہے۔ ایسا کہنا ان کے ایمان اورجذبۂ اطاعت گزاری میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے کندھوں کے مابین رکھی تو آپ ﷺ کے سامنے ہر بات کھل گئی اور آپ ﷺ کو جواب کا علم بھی ہو گیا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے ایسی خصلتوں کے بارے میں گفتگو، بحث اور جھگڑا کر رہے ہیں جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔ ان کےجھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان اعمال کے اثبات اور انہیں لے کر آسمان کی طرف چڑھنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس سے مراد ان کا ان کی فضیلت اور شرف کے بارے میں گفتگو کرنا ہے۔ یہ خصلتیں یہ ہیں: نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے ختم ہو جانے کے بعد ذکر، تلاوتِ قرآن اورعلم سیکھنے اور سکھانے کے لیے مساجد میں بیٹھنا، پورے طریقے سے وضو کرنا اور وضو کے پانی کوان تمام جگہوں تک پہنچانا جہاں تک پہنچانا شرعاً ضروری ہو، ان حالات میں بھی جن ميں وضو کرنا ناگوار محسوس ہوتا ہو جیسے سخت سردی میں۔ رب تعالی شانہ نے پھر پوچھا: مقرب فرشتے اور کن باتوں میں جھگڑ ا کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کھانا کھلانے میں، لوگوں سے اچھے انداز اور نرم لہجے میں بات کرنے میں اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ اس پر نبی ﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اسے ہر نیکی کو کرنے، ہر برائی کو ترک کرنے اور فقراء اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق دے اور یہ کہ اللہ آپ کو بخش دے اور آپ پر رحم فرمائے اور جب اللہ کا کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے اور انہیں راہ حق سے گمراہ کرنے کا ارادہ ہو تو وہ آپ ﷺ کو فتنے اور گمراہی سے بچاتے ہوئے اس سے پہلے ہی موت دے دے اور یہ کہ اللہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے اور ہر اس شخص سے محبت کرنے کی توفیق دے جو اللہ سے محبت کرتا ہو اور ہر اس عمل کو آپ ﷺکے لیے محبوب بنا دے جو اللہ کی قربت کا ذريعہ ہو۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو بتایا کہ یہ خواب برحق ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے معانی اور احکامات کو سیکھیں۔

Explanation

Mu‘ādh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was late one morning in coming out to lead them in the Fajr prayer, until it was almost time for sunrise. Then he came out hurriedly, ordered them to make the Iqāmah, and led them in a relatively quick prayer. When he finished the prayer, he ordered them to remain in their places in the rows. Then he told them about the reason for his coming late to the Fajr prayer. He said that he got up at night, made ablution, prayed as much voluntary prayer as Allah willed him to pray, and then fell asleep during his prayer. In his sleep, he had a vision of His Lord, the Exalted, in the best appearance, and He asked him: “What do the close angels talk about?” He said: “I do not know.” This question and answer occurred three times.
Then the Exalted Lord put His palm between the Prophet’s shoulders until the Prophet felt the coolness of Allah’s Fingers in his chest. The Prophet’s description of his Lord, the Almighty, is truthful. It is obligatory to believe in it just as Allah described Himself, without drawing any similarities between Him and His creation. Whoever has difficulty in understanding this, then let him say what those who are firmly grounded in knowledge have said: as Allah says about them in the Qur’an: {We believe in it, all of it is from our Lord}, and he should not burden himself with trying to interpret what he has no knowledge of, lest it leads him to ruin. Any time the believers hear speech which is similar to this, they should say: this is what Allah and His Messenger told us, and Allah and His Messenger have said the truth. This only increases their faith and submission to their Lord.
When the Lord placed His hand between the Prophet’s shoulders, everything was revealed to him and he knew the answer to the question, so he said: “They are talking and discussing and arguing the traits that expiate sins.” Their arguing is that they compete in recording those deeds and taking them up to the heavens, or their discussing the virtue and nobility of those deeds. These deeds are: walking to the congregational prayer, sitting in the mosque after the prayer to recite Qur’an and Dhikr, listening to knowledge and teaching it to others, and performing a perfect ablution when it is difficult to do so, as in the case of extremely cold weather.
Then the Lord said to him: “And then what are the close angels arguing about?” The Prophet answered: “Feeding people, speaking to people with good kind words, and praying at night (voluntary night prayer) while the people are asleep.” Then the Lord said to him: “Ask me whatever you want.” So the Prophet asked Allah to grant him success in doing good deeds and shunning evil deeds; to make him love the poor and less fortunate; to forgive him and have mercy upon him; and that if Allah willed to put a people through a trial that might lead them astray, he would take his life without being put to that trial or being led astray by it. He also asked Him to grant him love of Him, and love of those who love Allah, and love of everything that gets one closer to Allah. Finally, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told his Companions that this vision was true and ordered them to study it and learn the meanings and rulings that it implies.

Topics موضوعات