ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6333Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 6333)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
یہ حدیث اللہ تعالی کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالی تمام آسمانوں کو اپنے بزرگی والے عظیم ہاتھ کی انگلیوں میں سے ایک انگلی پر رکھ لیں گے۔ یہودی نے ان مخلوقات کا ذکر کیا جو بڑے حجم اور عظمت کے لحاظ سے معروف ہیں اور بیان کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالی ایک انگلی پر رکھ لیں گے۔ اگر اللہ تعالی چاہیں تو تمام آسمانوں اور زمینوں کو اور ان میں موجود جو مخلوقات ہیں، انہیں اپنے ہاتھ کی صرف ایک ہی انگلی پر رکھ لیں۔
یہ بطریق وحی انبیا علیہم السلام سے ملنے والے علم میں سے ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے یہودی کے کلام کی تصدیق کی، بلکہ آپ ﷺ کو اس کی بات پسند آئی اور آپ ﷺ اس سے خوش ہوئے۔ یہی وجہ ہے ک آپ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ یہ ایک طرح سے آپ ﷺ کی طرف سے اس کی بات کی تصدیق تھی، جیسا کہ ایک اور روایت میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ”اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں“۔
اس آیت میں اللہ تعالی کے لیے دو ہاتھوں کا اثبات ہے۔ آپ ﷺ نے اسے یہودی نے جو بات کہی تھی، اس کی تاکید اور اثبات کے لیے تلاوت کیا۔ اس لیے اس سلسلے میں ان لوگوں کے قول کی طرف چنداں توجہ نہیں کی جائے گی جو مذہب تعطیل کے قائل ہیں اور اللہ تعالی کے لیے انگلیوں کی صفت کی نفی کرتے ہیں، اس گمان میں کہ اللہ کے لیے انگلیوں کے اثبات کی وجہ سے اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ لازم آتی ہے۔ حالاںکہ یہ تعطیل کرنے والا شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی کے لیے اس صفت کے اثبات سے تشبیہہ لازم نہیں آتی۔ بالکل ایسے ہی، جیسے ہم اللہ تعالی کے لیے حیات، قدرت، قوت، سماعت اور بصارت جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے مخلوق سے مشابہہ ہے۔ کیوںکہ اللہ سبحانہ تعالی تو. ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ہے یعنی ”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“۔
Explanation
This Hadīth indicates the majesty of Allah, the Almighty, in the sense that He puts all the heavens on one Finger of His noble Hand. The Hadīth enumerates immense creations, each of which Allah, the Almighty, puts on one of His Fingers. Indeed, if Allah wills, He would put the heavens and earths and everything therein on only one Finger of His Hand. This belongs to the knowledge that Prophets received from divine revelation. Therefore, the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) acknowledged what the Jew said. He was pleased to hear that and even laughed in confirmation of it as ‘Abdullāh ibn Mas‘ūd reported in another narration. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) then recited the verse: {And they have not appraised Allah with true appraisal, while the earth entirely will be [within] His grip on the Day of Resurrection, and the heavens will be folded in His right Hand. Exalted is He and high above what they associate with Him} [Sūrat Az-Zumar: 67]. This verse affirms that Allah, the Almighty, has Hands, confirming what the Jew said. Thus, it would not make sense to deny Allah's attributes, thereby negating that Allah has Fingers on the pretext that affirming this attribute implies a similarity between Allah and His creation. Those who deny Allah's attributes are unaware that affirming this attribute to Allah does not entail such a resemblance. Since we affirm to Allah life, ability, power, hearing, and sight, we are not necessarily implying that Allah resembles His creation. Indeed, {There is nothing like unto Him, and He is the Hearing, the Seeing.} [Sūrat Ash-Shūra: 11].