صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6334Sahih صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «احتجَّت الجنةُ والنارُ، فقالت الجنةُ: يدخلني الضعفاءُ والمساكينُ، وقالت النار: يدخلني الجبَّارون والمتكبِّرون، فقال للنار: أنتِ عذابي أنتقم بك ممَّن شئتُ، وقال للجنة: أنتِ رحمتي أرحمُ بك مَن شئتُ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے اور دوزخ کہنے لگی: میرے اندر بڑے بڑے سرکش اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: اے دوزخ! تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “Paradise and Hellfire argued with each other (each claiming to be better than the other). Paradise said: ‘The weak and poor will enter me.’ Hellfire said: ‘The tyrants and arrogant will enter me.’ He said to Hellfire: ‘You are My punishment with which I will exact revenge upon whomever I wish.’ Then He said to Paradise: ‘You are My mercy with which I will show mercy to whomever I wish.’”
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: معنی کے لحاظ سے یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6334

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ جنت اور دوزخ نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے سے جھگڑا کیا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنی فضیلت اور برتری کے دلائل پیش کیے۔ ان میں سے ہر ایک کا دعوی تھا کہ وہ دوسری سے برتر ہے۔ یہ سب کچھ غیبی امور سے تعلق رکھتا ہے جس پر ایمان لانا ہم پر واجب ہے اگرچہ عقل انہیں بعید ہی کیوں نہ جانے۔ جنت نے دوزخ کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہا کہ میرے اندر کمزور اور فقیر قسم کے لوگ آئیں گے۔ یہ عموما وہ لوگ ہوتے جو حق کے معاملے میں نرم خو اور اس کے تابع ہوتے ہیں۔ دوزخ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سرکش یعنی سخت اور درشت مزاج اور متکبر قسم کے لوگ یعنی اپنی بڑائی اور برتری جتلانے والے آئیں گے جو لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق کو جھٹلاتے ہیں۔چنانچہ سرکشی اور تکبر سے متصف لوگ دوزخی ہوں گے۔ العیاذ باللہ کیونکہ ایسے لوگ عموما حق کے پیرو نہیں بنتے۔ اللہ تعالی نے جنت و دوزخ کے مابین فیصلہ کرتے ہوئے دوزخ سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے جس کے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تیرے ذریعے سے میں جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا۔ اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔یعنی جنت ایک ایسا مقام ہے جس کا وجود اللہ کی رحمت کا مرہون منت ہے۔ اس کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ جنت وہ رحمت ہے جو اللہ کی صفت ہے کیونکہ اللہ کی رحمت تو اس کے ساتھ قائم ایک صفت ہے۔ اس حدیث میں جس رحمت کا ذکر ہے وہ مخلوق ہے۔ ”تو میری رحمت ہے“ سے مراد یہ ہے کہ میں نے اپنی رحمت کی بدولت تجھے پیدا کیا ہےاور تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ جنت والے اللہ کی رحمت کے مستحقین ہوں گے اور دوزخ والے اللہ کے عذاب سے دوچار ہونے والے لوگ ہوں گے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs us that Paradise and Hellfire argued before their Lord, meaning that each of them presented the proofs of its superiority, each claiming to be better than the other. This is one of the matters of the unseen which we must believe in even if our minds deem it unlikely. Paradise argued with Hellfire, saying that the weak and poor from mankind will be in it, for most of them are those who incline towards the truth and submit to it. Then Hellfire argued that the tyrants – who are stern and harsh – will be in it, as well as the arrogant – who are haughty, proud, despise others and deny the truth. The tyrant and arrogant are the inhabitants of Hellfire – Allah’s refuge is sought – because most of the time they do not submit to the truth. Then Allah, the Almighty, judged between them, saying to Hellfire: You are My punishment with which I will punish whomever I wish, and will exact revenge upon whomever I wish. Then He said to Paradise: You are My mercy with which I will show mercy to whomever I wish, meaning that it is the abode that was created out of the mercy of Allah. It is not His mercy that is one of His permanent attributes, rather, the mercy mentioned here is a creature. ‘You are My mercy’ means ‘I created you from My mercy, and with you I will show mercy to whomever I wish.’ The inhabitants of Paradise are the people of Allah’s mercy, whereas the inhabitants of Hellfire are the people of Allah’s punishment.

Topics موضوعات