Hadith 6338
Sahih Muslim صحیح مسلم

جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی، تو اپنی مشیت کے بقدر ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔…

6338Sahih صحیح
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لما صوَّرَ اللهُ آدمَ في الجنة تركه ما شاء الله أن يتركه، فجعل إبليسُ يُطيفُ به، ينظر ما هو، فلما رآه أجوفَ عَرف أنه خُلِقَ خَلْقًا لا يَتَمالَك».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی، تو اپنی مشیت کے بقدر ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas ibn Mālik (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "When Allah fashioned Adam in Paradise, He left him (in the form He created him) as long as He desired to leave him (i.e. for a certain period of time). Satan started to go round Adam looking at him. Once he saw that Adam had a hollow body, he realized that he was a weak creature."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6338

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں پیدا کیا اور ان کی شکل بنائی، تو انہیں کچھ عرصہ ایسا ہی چھوڑے رکھا، اس میں روح نہیں پھونکی۔ ابلیس ان کے گرد گھومنے لگا اور دیکھتا رہا تاکہ یہ معلوم کرے کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے خالی ہے اور درمیان سے کھوکھلی ہے، تو وہ جان گیا کہ یہ کمزور مخلوق ہے اور اپنے آپ سے وسوسے دور نہیں کرسکتا یا یہ جان لیا کہ یہ پیٹ کی طرف سے گناہ کرسکتا ہے، تو اس نے اسے درخت کھانے پر لگا دیا یا اسے علم ہوا کہ اندر سے خالی مخلوق کمزور ہوتی ہے۔ یہاں بعض لوگ ”في الجنة“ کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو آدم علیہ السلام کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے (وہ جنت میں کیسے پہنچ گئے؟!)۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ انہیں ایسا چھوڑا گیا، جب کچھ عرصہ ایسا ہی گزرا اور روح پھونکنے کے لیے شکل تیار کی گئی، پھر انہیں جنت لے جا کر روح پھونکی گئی۔

Explanation

When Allah created Adam in Paradise and shaped his image, He left him for some time before blowing life into him. So Satan started to walk around him in circles and look closely at him to find out what this creation was. When he saw that Adam was hollow on the inside, he knew that it was a weak creature that does not have the ability to ward off the whispering of Satan, or he knew that that creature would commit a sin motivated by his insides (since he sinned by eating from the forbidden tree), or he knew that creatures that are hollow on the inside are weak. Some people considered the words: "in Paradise" to be problematic, given the narrations that say that Allah created Adam from different parts of the earth. The answer that was given to those people is that it is possible that Adam was left like that until he went through several stages and his image was ready for the breathing of life into it, then it was carried to Paradise where life was blown into him there.

Topics موضوعات