لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6361Sahih Muslim (HadeethEnc 6361)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ دراصل کفر کے اعمال اور جاہلیت کے اخلاق ہیں۔ یہ دونوں اعمال ہیں :
1- لوگوں کے نسب پر طعنہ کسنا، کمیاں نکالنا اور ان پر اپنا بڑکپن دکھانا۔
2- مصیبت کے وقت تقدیر سے بیزار ہوکر اونچی آواز سے رونا یا جزع فزع کرتے ہوئے کپڑے پھاڑنا۔
حدیث کے فوائد
- تواضع اختیار کرنے اور غرور سے اجتناب کرنے کی ترغیب۔
- مصیبت کے وقت صبر سے کام لینے اور ناراضگی کا اظہار نہ کرنے ضرورت۔
- مذکورہ اعمال کا تعلق کفر اصغر سے ہے۔ اور جس کے اندر کفر اصغر کى کوئى خصلت پائى جائے تو وہ کافر اور ملت سے خارج نہیں ہوجاتا ہے, ایسا صرف کفر اکبر کى بنا پر ہوتا ہے۔
- اسلام نے نسب پر طعنہ کسنے اور اس قسم کے تمام اعمال سے روکا ہے، جو مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالتے ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) informs of two traits in people that are from the disbelievers' practices and from the morals of Jāhiliyyah (the pre-Islamic era of ignorance), which are:
First: Defaming people's lineages, belittling them, and treating them arrogantly.
Second: Raising the voice when a calamity strikes by way of expressing resentment at the divine decree or tearing clothes out of extreme discontent.