صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6389Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے، بشرط کہ وہ آسان کام گناہ نہ ہوتا۔ اگر وہ گناہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، ما سوا اس کے کہ اللہ کی حرمات میں سے کسی حرمت کو پامال کیا جائے۔ اس صورت میں آپ ﷺ اللہ تعالی کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah, Mother of the Believers, (may Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) was never given a choice between two things except that he would choose the easier of the two unless it were a sin. If it were a sin, he would be the farthest of people from it. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) never took revenge for himself, but when the prohibitions of Allah were violated, he would take revenge for the sake of Allah.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6389

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق سے جڑی ہوئی کچھ باتیں بیان کر رہی ہیں۔ وہ بتا رہی ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دیا جاتا، تو آپ زیادہ آسان کو چنتے، بشرطیکہ زیادہ آسان چيز گناہ کا سبب نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ اس سے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کہيں زیادہ دور بھاگتے اور زیادہ مشکل کا انتخاب کرتے۔ اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ اپنا حق معاف کر دیتے اور درگزر سے کام لیتے تھے۔ ہاں، اگر اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا، تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ اللہ کے لیے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں کہيں زیادہ غصہ آتا تھا۔

حدیث کے فوائد

  • زيادہ آسان چیز کا انتخاب کرنا مستحب ہے، جب تک کہ اس میں گناہ کا پہلو نہ ہو۔
  • اسلام ایک آسان مذہب ہے۔
  • اللہ تعالی کے لیے غضب ناک ہونا مشروع ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليہ وسلم کے اندر اللہ کے حدود کو قائم کرنے کے سلسلے میں تحمل، صبر اور حق پر عمل پایا جاتا تھا۔
  • ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دشوار چيز کو ترک کرنا چاہیے اور آسان چیز پر اکتفا کرنا چاہیے۔
  • عفو ودرگزر سے کام لینے کی ترغیب، جب تک اللہ کے حقوق پامال نہ ہوتے ہوں۔

Explanation

‘Ā’ishah, Mother of the Believers (may Allah be pleased with her), informed about some of the morals of the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). Among what she mentioned was that whenever the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was given a choice between two matters, he would choose the easier of the two, as long as the easier option did not lead to sin. If it led to sin, he would be the farthest of people from it and would then choose the more difficult option. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) never sought revenge for himself exclusively; rather, he would forgive and overlook his own rights. But when the sanctities of Allah were violated, he would seek revenge for the sake of Allah, and he was the most intense in anger for the sake of Allah.

Topics موضوعات