اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا”۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65009Sahih Muslim (HadeethEnc 65009)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جدعان کے بارے میں، جو کہ اسلام سے قبل قریش کا ایک سردار تھا خبر دیا- اور اس نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے کئی اچھے کام کیے تھے، جن کی ترغیب اسلام نے دی ہے، بتایا کہ یہ اعمال آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا تھا اور اس نے کبھی یہ دعا نہیں کی تھی کہ اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دینا۔
حدیث کے فوائد
- ایمان کی فضیلت کا بیان اور یہ وضاحت کہ ایمان اعمال کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔
- کفر کی سیہ بختی کا بیان اور یہ وضاحت کہ کفر نیکوں کو غارت کردیتا ہے۔
- کافروں کو ان کے اعمال آخرت میں کچھ کام نہ دیں گے، کیوں کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
- کفر کی حالت میں انسان جو نیک اعمال کرتا ہے، اسلام لانے کے بعد ان اعمال کا اجر و ثواب (اس کے نامۂ اعمال میں) لکھ دیا جاتا ہے اور اسے ان کا اجر و ثواب ملتا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reported about ‘Abdullah ibn Jud‘ān, one of the chiefs of Quraysh before Islam. His good deeds include that he used to uphold kinship ties, feed the poor, and do other noble acts commended by Islam. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that these deeds will not benefit him in the Hereafter because of his disbelief in Allah and the fact that he did not ever say: My Lord, forgive my sins on the Day of Judgment.