صحیح مسلم
Sahih Muslim

اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا”۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65009Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: «لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان زمانۂ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ عمل اسے فائدہ پہنچائے گا؟ آپ نے فرمایا: "یہ عمل اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: I said: "O Messenger of Allah, Ibn Jud‘ān used to uphold kinship ties and feed the poor during the Jāhiliyyah (pre-Islamic era of ignorance). Will this benefit him?" He said: "It will not benefit him, for he did not ever say: My Lord, forgive my sins on the Day of Judgment."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65009

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جدعان کے بارے میں، جو کہ اسلام سے قبل قریش کا ایک سردار تھا خبر دیا- اور اس نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے کئی اچھے کام کیے تھے، جن کی ترغیب اسلام نے دی ہے، بتایا کہ یہ اعمال آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا تھا اور اس نے کبھی یہ دعا نہیں کی تھی کہ اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دینا۔

حدیث کے فوائد

  • ایمان کی فضیلت کا بیان اور یہ وضاحت کہ ایمان اعمال کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔
  • کفر کی سیہ بختی کا بیان اور یہ وضاحت کہ کفر نیکوں کو غارت کردیتا ہے۔
  • کافروں کو ان کے اعمال آخرت میں کچھ کام نہ دیں گے، کیوں کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
  • کفر کی حالت میں انسان جو نیک اعمال کرتا ہے، اسلام لانے کے بعد ان اعمال کا اجر و ثواب (اس کے نامۂ اعمال میں) لکھ دیا جاتا ہے اور اسے ان کا اجر و ثواب ملتا ہے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reported about ‘Abdullah ibn Jud‘ān, one of the chiefs of Quraysh before Islam. His good deeds include that he used to uphold kinship ties, feed the poor, and do other noble acts commended by Islam. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that these deeds will not benefit him in the Hereafter because of his disbelief in Allah and the fact that he did not ever say: My Lord, forgive my sins on the Day of Judgment.

Topics موضوعات