تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65010Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65010)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں، جو کہ مکہ سے قریب ایک گاؤں ہے، صبح کی نماز پڑھائی۔ اس دن رات میں بارش ہوئی تھی۔ جب سلام پھیر چکے اور نماز سے فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربنے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ بارش کے وقت لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش نازل ہوئی اور نزول بارش کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے، تو ایسا شخص اللہ پر ایمان لانے والا ہے، جو اللہ اس جہان کا خالق اور کائنات میں تصرف کرنے والا ہے۔ ایسا شخص ستارے کا منکر ہے۔ اس کے برخلاف جو یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔ کیوں کہ اس نے نزول بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا، جب کہ اللہ نے ستارے کو نہ تو بارش کا شرعی سبب بنایا ہے اور نہ تقدیری سبب۔ البتہ جو شخص نزول بارش اور دیگر زمینی حوادث کو ستاروں کے طلوع ہونے یا ٹوٹ کر گرنے جیسی حرکات کی طرف منسوب کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہی حقیقی فاعل ہیں، تو وہ شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے۔
حدیث کے فوائد
- نزول بارش کے بعد یہ کہنا مستحب ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش نازل ہوئی۔
- جس نے نزول باراں وغیرہ کو ستارے کی طرف اس حیثیت سے منسوب کیا کہ وہی اس کی تخلیق کرتا اور اسے وجود میں لاتا ہے، تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہے۔ لیکن منسوب اس بنیاد پر کرے کہ ستارہ نزول باراں کا سبب ہے، تو وہ کفر اصغر کا مرتکب ہے، کیوں کہ ستارہ نزول باراں کا نہ تو شرعی سبب ہے اور نہ حسی۔
- جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے تو وہ کفر کا سبب بن جاتی ہے اور اگر اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے، تو وہ ایمان کا سبب بن جاتی ہے۔
- یہ کہنے سے منع کیا گیا ہے کہ "ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی۔" خواہ اس کا مقصد بارش کا وقت بتانا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ممانعت دراصل شرک کا دروازہ بند کرنے کے لیے ہے۔
- نعمتوں سے فیض یاب ہونے اور مصائب ومشکلات سے دور رہنے کے لیے دل کو اللہ تعالی سے وابستہ رکھنا واجب ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) offered the Fajr prayer in Al-Hudaybiyah, a village close to Makkah, after rainfall at night. After he made taslīm and finished the prayer, he turned towards the people and asked them: Do you know what your Almighty Lord has said? They replied: Allah and His Messenger know best. He said: Allah Almighty clarified that people fall under two categories upon rainfall: believers in Allah Almighty and disbelievers in Him. Those who say, "We have had rainfall out of Allah's bounty and mercy," ascribing the rainfall to Allah, are believers in Allah, the Creator, and the Disposer of the affairs of the universe, and they disbelieve in the stars. And those who say, "We have had rainfall due to such and such star," are disbelievers in Allah and believers in the stars. But this is minor disbelief, as they attribute rainfall to a star, while Allah did not make it a cause of rainfall, neither in terms of the Shariah nor in terms of destiny. But as for those who ascribe rainfall and other earthly occurrences to the rise and decline of the stars, believing that they are the actual doer, they have fallen into major disbelief.